ہفتہ، 28-فروری،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)

سرکاری ملازمین کے حوالے سے عدالت کا بڑا فیصلہ

26 فروری, 2026 10:52

لاہور ہائی کورٹ نے سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

 لاہور ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمت میں تبادلہ سروس کا حصہ ہے اور کوئی بھی ملازم اپنی مرضی کے اسٹیشن پر تعیناتی کا قانونی دعویٰ نہیں کر سکتا۔ فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ محض آٹھ دن کے اندر ملازم کا تبادلہ غیر قانونی نہیں ہے۔ تب تک عدالت مداخلت نہیں کرے گی جب تک تبادلے میں انتظامی بدنیتی ثابت نہ ہو۔

یہ فیصلہ جسٹس راحیل کامران نے چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم میں جاری کیا۔ عدالت نے بلڈنگ انسپکٹر محمد عمران ارشاد کی تبادلے کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی۔ درخواست گزار نے تبادلے کے محض آٹھ دن بعد عدالت سے رجوع کیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے نفاذ کے بعد سابقہ قوانین موثر نہیں رہے۔ نئے قانون میں ملازمین کی تعیناتی کی مدت یعنی سیکیورٹی آف ٹینور کا کوئی تحفظ موجود نہیں۔ اس لیے محکمہ بلدیات کے ملازمین کسی مخصوص مدت تک ایک ہی جگہ تعیناتی کا حق نہیں رکھتے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پرانے عدالتی نظائر نئے قانون کی موجودگی میں درخواست گزار کے کام نہیں آئیں گے۔ اس فیصلے کے بعد سرکاری ملازمین کے تبادلوں میں قانونی چیلنجز محدود ہو جائیں گے اور انتظامیہ کو اپنی کارروائی میں آسانی حاصل ہوگی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔