اسرائیل کی ایک بار پھر نئے رہبر اعلیٰ کو بھی نشانہ بنانے کی کھلی دھمکی

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت میں تبدیلی سے ان کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی، اگر نئی قیادت بھی اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران میں نئی قیادت کے اعلان کے بعد اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت نے سخت بیانات جاری کیے ہیں۔ اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے کہا ہے کہ اگر ایران کا کوئی بھی رہنماء اسرائیل کی تباہی کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا تو وہ ہمارا نشانہ ہوگا، وہ قتل کے خطرے سے محفوظ نہیں رہے گا، چاہے اس کا نام کچھ بھی ہو اور وہ کہیں بھی چھپا ہو۔
اسرائیل کی پارلیمنٹ کے اسپیکر امیر اوہانا نے بھی اسی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران میں صرف شخصیت تبدیل ہوئی ہے لیکن نظام اور پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نئی قیادت کے ساتھ بھی وہی رویہ اختیار کرے گا جو پہلے اختیار کیا جاتا رہا ہے۔
اسرائیلی مبصرین کے مطابق اسرائیل اس وقت ایران کی نئی قیادت کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران نے قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے نئے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
کچھ اسرائیلی تجزیہ کار اس صورتحال کو ایران کے سیاسی نظام میں ایک خاص نوعیت کی وراثتی جھلک کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اسلامی انقلاب نے ایک وقت میں موروثی بادشاہت کا خاتمہ کیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں قیادت کی منتقلی کے طریقہ کار پر نئی بحث شروع ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی حکام کے نزدیک اس فیصلے سے ایران کے سیاسی نظام کی مضبوطی یا کمزوری کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی حکومت یہ جائزہ لے رہی ہے کہ آیا نئی قیادت کے انتخاب سے ایران کے اندرونی حالات میں کوئی کمزوری پیدا ہو سکتی ہے جس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت ان سوالات کے واضح جوابات موجود نہیں، تاہم اسرائیلی حکومت اور عسکری ادارے ایران کی نئی قیادت کے ہر قدم کو قریب سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی انتہائی تناؤ کا شکار ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












