امریکی فارمولا مسترد، اسرائیل سے تعلقات آزاد فلسطینی ریاست سے مشروط ہیں، سعودی عرب

سعودی عرب نے امریکہ اور اسرائیل پر واضح کر دیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کا تعلق اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے نہیں ہے، بلکہ ریاض صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں ہی اسرائیل کو تسلیم کرے گا۔
ریاض کے مختلف حلقوں مطابق سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے حوالے سے امریکی دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنا حتمی مؤقف سامنے رکھ دیا ہے۔
امریکی نیوز چینل سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک اہم سعودی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات صرف اسی صورت میں بحال کرے گا، جب فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں، جنہیں بعد میں تبدیل نہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کا کروایا ہوا ایران امریکہ معاہدہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط کے باعث ٹوٹ گیا، منیر اکرم
سعودی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کا خطرہ، علاقائی کشیدگی اور ایران کا جوہری پروگرام بالکل الگ معاملات ہیں جبکہ فلسطینیوں کا حق اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ بالکل الگ ہے۔ ان دونوں چیزوں کو ایک ساتھ جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔
سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ پاکستان اور ترکی جیسے بڑے علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر شروع سے ہی خطے میں امن قائم کرنے اور جنگ کو پھیلنے سے روکنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دی ہے۔
اس سفارتی مؤقف سے یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اگر مستقبل میں ایران کے ساتھ کوئی امن معاہدہ ہو بھی جاتا ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوگا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کر لے گا۔
ریاض نے امریکہ اور اسرائیل کو باور کرا دیا ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق کو پس پشت ڈال کر یا انہیں بڑے سیاسی سودوں میں مؤخر کر کے خطے میں کوئی حقیقی امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











