بدھ، 29-جولائی،2026
بدھ 1448/02/15هـ (29-07-2026م)

مون سون کے موسم میں فالج کا خطرہ کن افراد کو زیادہ؟ ماہرین نے اہم احتیاطی تدابیر بتادیں

29 جولائی, 2026 10:29

بارش کا موسم گرمی کی شدت کم کرنے کے ساتھ ماحول کو خوشگوار بنا دیتا ہے۔ تاہم مون سون کے دوران موسم میں اچانک تبدیلی اور نمی میں اضافہ بعض افراد کے لیے صحت کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ خاص طور پر وہ افراد زیادہ احتیاط کریں جنہیں پہلے سے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، ہائی کولیسٹرول یا دل کی بیماری کا سامنا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق بارشوں کے دنوں میں درجہ حرارت اور نمی میں مسلسل اتار چڑھاؤ جسم پر اثر ڈال سکتا ہے۔ بعض افراد میں اس دوران بلڈ پریشر کا توازن متاثر ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کو پہلے ہی دل یا خون کی شریانوں سے متعلق بیماری ہو تو اسے اپنی صحت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کے دوران مختلف قسم کے انفیکشن بھی عام ہوجاتے ہیں۔ نزلہ، زکام، کھانسی، معدے کی خرابی اور پانی کی کمی جیسے مسائل سامنے آسکتے ہیں۔ یہ بیماریاں جسم پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بعض مریضوں کا بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

صحت کے ماہرین کے مطابق بارش کے موسم میں روزمرہ معمولات میں تبدیلی بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ بارش کے باعث لوگ گھروں تک محدود ہوجاتے ہیں اور جسمانی سرگرمی کم ہوجاتی ہے۔ نیند متاثر ہونے، ادویات وقت پر نہ لینے اور کھانے پینے میں بے احتیاطی سے بھی صحت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔

ماہرین نے فالج کی ابتدائی علامات کو پہچاننے پر بھی زور دیا ہے۔ فالج کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہر شخص کو اس کی علامات سے آگاہ ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے ’بی ای ایف اے ایس ٹی‘ (BE FAST) اصول کو یاد رکھنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

’بی‘ سے مراد اچانک جسمانی توازن کھو دینا ہے۔ ’ای‘ کا تعلق بینائی میں اچانک تبدیلی سے ہے۔ ’ایف‘ چہرے کے ایک طرف جھک جانے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ’اے‘ سے مراد بازو یا جسم کے کسی حصے میں اچانک کمزوری ہے۔ ’ایس‘ بولنے میں دشواری یا الفاظ ادا کرنے میں مسئلے کی علامت ہے۔ ’ٹی‘ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر ہنگامی طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق فالج کی علامات ظاہر ہونے کے بعد علاج میں تاخیر مریض کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ بروقت طبی امداد سے نہ صرف جان بچانے کے امکانات بڑھتے ہیں بلکہ مستقل معذوری کے خطرے کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے اچانک چہرہ ٹیڑھا ہونے، بازو میں کمزوری، بولنے میں مشکل یا بینائی میں تبدیلی کو معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ماہرین نے ہائی رسک افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کی باقاعدگی سے جانچ کرواتے رہیں۔ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات بھی وقت پر استعمال کریں۔ اس کے علاوہ موسم کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مناسب جسمانی سرگرمی جاری رکھنا بھی ضروری ہے۔

صحت مند طرز زندگی فالج سمیت کئی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ متوازن غذا کا استعمال، نمک کی مقدار کم رکھنا، تمباکو نوشی سے پرہیز اور مناسب مقدار میں پانی پینا صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا بھی انتہائی اہم ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مون سون بذات خود فالج کی براہ راست وجہ نہیں ہے۔ تاہم اس موسم میں موجودہ بیماریوں کو نظر انداز کرنا یا صحت کے معمولات میں لاپرواہی خطرات میں اضافہ کرسکتی ہے۔ اگر ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول اور دل کے امراض کو باقاعدگی سے کنٹرول میں رکھا جائے تو فالج سمیت کئی سنگین پیچیدگیوں کے امکانات کم کیے جاسکتے ہیں۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔