ہفتہ، 26-ستمبر،2026
ہفتہ 1448/04/15هـ (26-09-2026م)

ڈپریشن کی طرف لے جانے والی روزمرہ کی عام عادات!!! کہیں آپ بھی تو نہیں کرتے؟

26 ستمبر, 2026 12:10

ماہرین کے مطابق ہماری کچھ روزمرہ عادات ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور ڈپریشن کی علامات سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔

صحت مند طرز زندگی اختیار کرنے سے ذہنی اور جسمانی صحت کو بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس لیے کھانے پینے، نیند، جسمانی سرگرمی اور سماجی تعلقات سمیت روزمرہ معمولات پر توجہ دینا ضروری ہے۔

الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال

الٹرا پراسیس غذائیں آج کل لوگوں کی خوراک کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ ان میں فاسٹ فوڈ، ڈبل روٹی، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا شامل ہیں۔

مختلف تحقیقی رپورٹس میں الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال اور ڈپریشن کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ دوسری جانب صحت مند اور متوازن غذا مجموعی صحت کیلئے بہتر سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے روزانہ کی خوراک میں تازہ اور غذائیت سے بھرپور اشیا کو شامل کرنا مفید ہوسکتا ہے۔

بہت زیادہ اکیلے رہنا

کچھ وقت اکیلے گزارنا ہر شخص کیلئے معمول کی بات ہے۔ اس سے انسان کو آرام کرنے اور اپنی مصروفیات پر توجہ دینے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم مسلسل تنہائی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین سماجی تعلقات کو ذہنی صحت کیلئے اہم قرار دیتے ہیں۔ دوستوں، گھر والوں اور قریبی لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انسان خود کو زیادہ جڑا ہوا محسوس کرسکتا ہے۔ اس سے بعض افراد میں ڈپریشن کی علامات سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔

موبائل اور دیگر ڈیوائسز کا زیادہ استعمال

اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ، ٹی وی اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ کام، تعلیم اور تفریح کیلئے ان کا استعمال ضروری بھی ہوسکتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوسکتا ہے جب انسان مسلسل کئی گھنٹے اسکرین کے سامنے گزارنے لگے۔

تحقیقی رپورٹس میں زیادہ اسکرین ٹائم اور ڈپریشن کی علامات کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعض رپورٹس میں سماجی انزائٹی سے بھی اس کا تعلق بتایا گیا ہے۔ اس لیے کام کے علاوہ اسکرین کے غیر ضروری استعمال کو محدود کرنا بہتر ہوسکتا ہے۔

منفی سوچ رکھنے والے لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا

انسان کے اردگرد کا ماحول اس کے خیالات اور موڈ پر اثر ڈال سکتا ہے۔ ایسے افراد کے ساتھ مسلسل وقت گزارنا جو ہر معاملے میں منفی سوچ رکھتے ہوں، بعض لوگوں کیلئے ذہنی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

مسلسل مایوسی، پریشانی اور منفی گفتگو ذہنی کیفیت کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا جو تعاون کرتے ہوں اور مثبت انداز میں مسائل کا سامنا کرتے ہوں، سماجی اور جذباتی طور پر بہتر محسوس کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

رات گئے تک جاگنے کی عادت

نیند کی کمی اور نیند کا غیر مناسب معمول بھی ذہنی صحت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ بعض تحقیقی رپورٹس میں دیر سے سونے کی عادت اور ڈپریشن کی علامات کے درمیان تعلق کا ذکر کیا گیا ہے۔

رات گئے تک جاگنے والے افراد میں نیند کا دورانیہ کم ہوسکتا ہے یا ان کی نیند کا معمول متاثر ہوسکتا ہے۔ مناسب اور باقاعدہ نیند مجموعی صحت کیلئے اہم ہے۔ اس لیے سونے اور جاگنے کا ایک مقررہ معمول برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا

جدید طرز زندگی میں کئی افراد کا زیادہ وقت کرسی، صوفے یا ڈیسک پر گزرتا ہے۔ دفتر کا کام، موبائل کا استعمال اور ٹی وی دیکھنے جیسی سرگرمیوں کے باعث جسمانی حرکت کم ہوسکتی ہے۔

جسمانی سرگرمی نہ صرف جسم کیلئے فائدہ مند ہے بلکہ موڈ بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ ورزش یا روزانہ کی معمولی جسمانی سرگرمی سے ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس مسلسل بیٹھے رہنے سے جسمانی سرگرمی کم ہوجاتی ہے، جو مجموعی صحت کیلئے بہتر نہیں۔

صحت مند معمول اپنانا کیوں ضروری ہے؟

ڈپریشن کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں اور صرف ایک عادت کو اس کا براہ راست سبب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم صحت مند غذا، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی اور دوستوں و خاندان کے ساتھ بہتر تعلقات مجموعی صحت کیلئے اہم ہیں۔

اگر کسی شخص میں مسلسل اداسی، دلچسپی ختم ہونے، نیند یا بھوک میں نمایاں تبدیلی، شدید تھکن یا دیگر ذہنی صحت کی علامات موجود ہوں تو انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی صورتحال میں ماہر صحت سے مشورہ لینا بہتر ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔