مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث منی پور میں مسلح تصادم شدت اختیار کر گیا

بھارت کی ریاست منی پور میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں مسلح جھڑپوں کے دوران ایک بھارتی فوجی سمیت بیس افراد کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے نے حکومت کی داخلی پالیسیوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیئے۔
بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں جاری بدامنی کے دوران مسلح گروہوں کی کارروائی میں ایک بھارتی فوجی سمیت بیس افراد کو یرغمال بنا لئے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اس واقعے نے ملک کے اندر بڑھتی ہوئی علیحدگی پسند تحریکوں اور حکومت کی پالیسیوں پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بھارتی جریدے دی پرنٹ کے مطابق منی پور میں حالیہ کشیدگی کے دوران کُکی گروپ سے وابستہ مسلح افراد نے بیس افراد کو یرغمال بنا لیا، جن میں ایک بھارتی فوجی بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق واقعہ دو مسلح گروہوں کُکی اور ناگا کے درمیان بڑھتی ہوئی دشمنی کے نتیجے میں پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں : مودی کی ایک اور سفارتی ناکامی، روس نے بھارت کیلئے سستے تیل کی سہولت ختم کر دی
رپورٹ کے مطابق اس واقعے سے کچھ ہی عرصہ قبل ناگا گروپ سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد نے کُکی برادری سے تعلق رکھنے والے کسانوں پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں دو افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد دونوں گروہوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی اور حالات تیزی سے خراب ہوتے چلے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ منی پور میں بدامنی کی بنیادی وجہ مقامی آبادی کا مرکزی حکومت کی پالیسیوں سے عدم اطمینان ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ریاست کے کئی حلقوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ حکومت نے سیاسی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو منی پور میں جاری کشیدگی مستقبل میں بڑے سیاسی بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہے اور علیحدگی پسند تحریکیں مزید مضبوط ہو سکتی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












