قدرتی اور کیمیکل والی مہندی میں کیا فرق ہے؛ کیسے پہچانی جائے؟ ماہر جلد نے بتادیا

What Is the Difference Between Natural and Chemical Henna; How Can It Be Identified?
مہندی ہماری ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ خواتین اور بچیوں میں اسے لگانے کا شوق بچپن سے پایا جاتا ہے۔
شادی بیاہ اور تہواروں پر مہندی کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔ قدرتی مہندی عموماً محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ لیکن بازار میں دستیاب بعض مہندیوں میں کیمیکل شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ کیمیکل جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
مہندی دراصل ایک پودے کے پتوں سے تیار کی جاتی ہے۔ ان پتوں کو خشک کر کے پاؤڈر بنایا جاتا ہے۔ پھر اسے پانی یا لیموں کے رس کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ قدرتی مہندی جلد پر نارنجی یا سرخی مائل رنگ چھوڑتی ہے۔ یہ رنگ کئی دنوں تک برقرار رہتا ہے۔ اس کی خوشبو بھی قدرتی ہوتی ہے۔
ماہرینِ جلد کے مطابق بعض مہندیوں میں اضافی رنگ اور کیمیکل شامل ہوتے ہیں۔ یہ اجزا جلد کی حساسیت بڑھا سکتے ہیں۔ کچھ افراد کو استعمال کے فوراً بعد خارش اور جلن محسوس ہوتی ہے۔ بعض کیسز میں جلد پر سرخی اور سوجن بھی ہو جاتی ہے۔ طبی ماہرین اس کیفیت کو الرجی یا کانٹیکٹ ڈرماٹائٹس کہتے ہیں۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر مہندی لگانے کے بعد جلن یا درد ہو تو اسے فوراً دھو دینا چاہیے۔ اکثر لوگ خوبصورت رنگ کی خواہش میں مہندی کو زیادہ دیر تک لگا رہنے دیتے ہیں۔ یہ عمل جلد کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ حساس جلد والے افراد کو خاص احتیاط کرنی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق متاثرہ جلد کا بروقت علاج ضروری ہے۔ اگر مسئلہ بڑھ جائے تو داغ یا نشانات بن سکتے ہیں۔ ان کے ختم ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس لیے احتیاط بہتر ہے۔
احتیاطی تدابیر کے طور پر مہندی لگانے سے پہلے پیچ ٹیسٹ کرنا چاہیے۔ اس کے لیے مہندی کو ہاتھ کے چھوٹے حصے پر لگا کر کم از کم 24 گھنٹے انتظار کریں۔ اگر کوئی ردعمل ظاہر نہ ہو تو مہندی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح جلد کی حفاظت ممکن ہو سکتی ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












