چین ایران کو بیلسٹک میزائلوں کا خام مال فراہم کر رہا ہے، برطانوی اخبار کا دعویٰ

برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ چین عالمی پابندیوں اور جاری جنگ کے باوجود ایران کو بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے لیے درکار خام مال کی بڑی مقدار فراہم کر رہا ہے۔
برطانوی جریدے ٹیلی گراف کی جانب سے شائع کردہ ایک حالیہ تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین بڑے پیمانے پر فوجی حملوں کے سائے میں بھی ایران کی میزائل سازی کی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں مدد دے رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک پانچ ایرانی بحری جہاز چین کی ژوہائی بندرگاہ سے تہران پہنچے ہیں، جن پر سوڈیم پرکلوریٹ نامی کیمیائی مادہ لدا ہوا تھا۔
یہ مواد بیلسٹک میزائلوں کے ٹھوس ایندھن کی تیاری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ لائی گئی مقدار سے ایران مزید سات سو پچاسی سے زائد میزائل تیار کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا اندھا دھند استعمال بند کیا جائے، چین
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام جہاز ان ایرانی شپنگ لائنز کا حصہ ہیں، جن پر امریکہ اور یورپی یونین نے پہلے ہی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان میں ہامونا، بارزین، شبدیس اور رائن نامی جہاز شامل ہیں، جنہوں نے ٹریکنگ سسٹم بند کر کے اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی۔
ماہرین کے مطابق اس رسد کا مطلب یہ ہے کہ ایران اب ایک ماہ تک روزانہ دس سے تیس میزائل داغنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے سابق حکام کا کہنا ہے کہ یہ ترسیلات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران اپنے میزائلوں کے ذخیرے میں آنے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے چین پر تکیہ کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی یہ پالیسی روس کے ساتھ اس کے تعاون سے مشابہت رکھتی ہے، جہاں وہ براہ راست اسلحہ دینے کے بجائے تجارتی سامان کے نام پر دفاعی خام مال فراہم کرتا ہے تاکہ عالمی سطح پر تردید کی گنجائش موجود رہے۔
رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ چین مستقبل میں سمندری راستے کے علاوہ پاکستان کے زمینی راستے کو بھی ایران تک سامان پہنچانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









