امریکی صدر کی خود پسندی، مذہبی پیشوا بن بیٹھے، پوپ لیو پر الزامات کی بوچھاڑ

امریکی صدر ایک بار پھر متنازع بیان اور غیر معمولی حرکت کے باعث خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ انہوں نے نئے پوپ لیو چہاردہم پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام پر بیان دیا اور اس کے فوراً بعد اپنی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر جاری کی، جس میں وہ خود کو مسیحا کے روپ میں دکھا رہے ہیں۔ اس عمل نے ان کی ذہنی صحت میں سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست ایک بار پھر غیر سنجیدگی اور خود پسندی کی نئی مثال پیش کر رہی ہے، جہاں ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل ’’حل‘‘ کرنے کے بعد اب ڈونلڈ ٹرمپ نے آخرت کے معاملات بھی اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے خود کو خدا سمجھنا شروع کردیا ہے، جس نے ان کی ذہنی صحت پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ پر ایک طویل اور غصے سے بھرپور فرمان جاری کرتے ہوئے انہوں نے پوپ لیو چہاردہم کو آڑے ہاتھوں لیا اور لکھا کہ وہ ایسے پوپ کو قبول نہیں کر سکتے جو ایران کے جوہری ہتھیار رکھنے کو قابل قبول سمجھے۔
انہوں نے پوپ لیو چہاردہم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی روش درست کرنی چاہیے۔ اس بیان میں نہ صرف سفارتی نزاکت کا فقدان تھا بلکہ ایک مذہبی شخصیت پر براہ راست سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا عمل بھی ہے۔
ٹرمپ کا ماننا ہے کہ پوپ جرائم کے خلاف اتنے نرم ہیں کہ شاید وہ چوروں کو بھی چاکلیٹ بانٹتے ہوں گے۔ انہوں نے نہایت ’’دردمندی‘‘ سے پوپ کو مشورہ دیا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور بائیں بازو کی سیاست چھوڑ کر ایک اچھے پوپ بننے کی کوشش کریں، بالکل ویسے ہی جیسے ٹرمپ ایک اچھے صدر ہیں۔
بات یہاں ختم نہیں ہوئی؛ ٹرمپ نے ایک اور تاریخی دعویٰ کر دیا کہ پوپ لیو چہاردہم جس کرسی پر بیٹھے ہیں، وہ دراصل ٹرمپ کی ہی مہربانی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ہنگری میں سیاسی انقلاب، ٹرمپ کے اتحادی وکٹر اوربان کا سولہ سالہ اقتدار انجام کو پہنچ گیا
ان کا کہنا ہے کہ چرچ نے پوپ کو صرف اس لیے منتخب کیا تاکہ وہ ٹرمپ کے ساتھ ڈیل کر سکیں، گویا ویٹیکن کا انتخاب بھی اب پینسلوانیا کے کسی انتخابی حلقے کے نتائج جیسا ہو گیا ہے۔
ٹرمپ نے پوپ کے بھائی لوئس کی تعریفیں کیں کیونکہ وہ ان کی میگا مہم کے مرید ہیں، جبکہ موجودہ پوپ کو نااہل قرار دے دیا۔
تاہم اصل ہنگامہ اس وقت برپا ہوا جب ٹرمپ نے ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر جاری کی۔ اس تصویر میں انہیں ایک مقدس شخصیت کے انداز میں دکھایا گیا، جہاں وہ ایک بیمار شخص کو شفا دے رہے ہیں، جبکہ آسمان سے سپاہی اترتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔
پس منظر میں امریکی پرچم، جنگی طیارے اور مجسمہ آزادی جیسے عناصر شامل کر کے ایک عجیب و غریب تصور پیش کیا گیا، جسے سیاسی خود پرستی کا عروج قرار دیا جا رہا ہے۔
تصویر دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ شاید ٹرمپ کا خیال ہے کہ قیامت کا آغاز پینٹاگون کے کسی خفیہ آپریشن سے ہوگا۔
ٹرمپ کا مسیحا کمپلیکس اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ انہیں وائٹ ہاؤس اور میسحیوں کے مقدس مقام ویٹیکن میں فرق محسوس ہونا بند ہو گیا ہے۔
یہ محض ایک تصویر نہیں بلکہ ایک ذہنی کیفیت کی عکاسی ہے، جس میں ایک سیاستدان خود کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں صارفین اسے مذاق، توہین اور خطرناک رجحان قرار دے رہے ہیں۔
مذہبی حلقوں نے بھی اس اقدام کو انتہائی نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس شخصیات کی نقالی نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ کروڑوں افراد کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ کے حامی اسے ایک تخلیقی اظہار قرار دے کر دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مجموعی ردعمل تنقیدی اور طنزیہ ہی نظر آتا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید سیاست میں سنجیدگی کم اور تماشہ زیادہ ہو چکا ہے، جہاں عالمی معاملات بھی ذاتی تشہیر کا ذریعہ بنائے جا رہے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام جیسے حساس مسئلے کو بھی ایک ذاتی بیانیے میں تبدیل کر دینا اس رجحان کی واضح مثال ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیاست اور خود پرستی کے درمیان حدیں مٹتی جا رہی ہیں، اور اگر یہی روش برقرار رہی تو مستقبل میں عالمی قیادت مزید غیر متوقع اور غیر سنجیدہ رویوں کا شکار ہو سکتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












