جمعہ، 17-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/29هـ (17-04-2026م)

افغانستان میں طالبان کی نااہلی، پولیو کے کیسز میں تشویشناک اضافہ، عالمی ادارے کی تشویش

15 اپریل, 2026 13:06

افغانستان میں طالبان انتظامیہ کی نااہلی اور سخت گیر پالیسیوں کے باعث پولیو جیسی موذی وبا نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے، جس سے ہزاروں بچوں کی زندگی داؤ پر لگ گئی ہے۔

افغانستان میں طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی، نااہلی اور غفلت نے ملک کے مستقبل یعنی معصوم بچوں کو تاحیات معذوری کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

افغان میڈیا خامہ پریس کے مطابق افغانستان کے مختلف حصوں میں پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف نے افغانستان میں پولیو کے پھیلاؤ پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ انسدادِ پولیو مہم کو فوری طور پر تیز کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : طالبان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور اسلحہ فراہم کر رہے ہیں، سابق اعلیٰ افغان عہدیدار

یونیسف کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کے لیے پولیو ویکسینیشن انتہائی ضروری ہے، تاہم وہاں صحت کے اداروں کو بدامنی، سیکیورٹی کے سنگین مسائل اور دور دراز علاقوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں بچے اس حفاظتی قطرے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ماہرینِ صحت کے مطابق طالبان کی سخت گیر پالیسیوں اور عالمی برادری کے ساتھ عدم تعاون کی وجہ سے انسدادِ پولیو مہم مسلسل ناکامی سے دوچار ہو رہی ہے۔

پولیو مہم جیسے حساس انسانی مسئلے کو بھی طالبان رجیم نے اپنی سیاسی انا اور شدت پسندانہ نظریات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے، جس کا خمیازہ افغان عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان نے اپنی روش تبدیل نہ کی اور صحتِ عامہ کے مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ موذی وبا نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی اور صحت کا چیلنج بن جائے گی۔

افغانستان میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور تربیت یافتہ عملے کی کمی نے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیوں پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔