بدھ، 15-اپریل،2026
بدھ 1447/10/27هـ (15-04-2026م)

ایران امریکی پابندیوں اور جنگ کے باوجود تیل کی برآمدات جاری رکھنے میں کامیاب

15 اپریل, 2026 14:41

امریکی پابندیوں اور حالیہ جنگی صورتحال کے باوجود ایران نے اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے متبادل راستے اور مضبوط شراکت دار تلاش کر لیے ہیں۔ ایران اب بھی اپنی تیل کی برآمدات جاری رکھنے میں کامیاب ہے۔

ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف دہائیوں سے جاری امریکی پابندیوں کے ساتھ زندہ رہنے کا ہنر جانتا ہے بلکہ اس نے اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے جدید ورک اراؤنڈز بھی تیار کر لیے ہیں۔

اگرچہ ایران کی تیل کی پیداوار 1970 کی دہائی کے مقابلے میں دس فیصد سے کم ہو کر اب تین فیصد پر آگئی ہے، لیکن وہ اب بھی روزانہ 33 لاکھ بیرل تیل پیدا کر رہا ہے۔

اس بقاء کی سب سے بڑی وجہ چین ہے، جو ایران کے تیل کا نوے فیصد حصہ خریدتا ہے۔ چین کی چھوٹی آزاد ریفائنریز، جنہیں ٹی پاٹ ریفائنریز کہا جاتا ہے، ایرانی خام تیل کو بغیر کسی عالمی رکاوٹ کے درآمد کر رہی ہیں اور اس کی ادائیگی چینی یوآن میں کی جاتی ہے تاکہ امریکی مالیاتی نظام سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ ایران مذاکرات کا دوسرا دور، پاکستان کی سول و عسکری قیادت میزبانی کیلئے متحرک

تزویراتی طور پر ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا انحصار ختم کرنے کے لیے ایک ہزار کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی ہے، جو تہران کے اندرونی تیل کے مرکز گورہ کو جاشک بندرگاہ سے جوڑتی ہے۔

یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر یہ آبی گزرگاہ بند بھی ہو جائے تو ایران کا تیل براہِ راست کھلے سمندر میں روانہ ہو سکتا ہے۔

مزید برآں، ایران نے افغانستان کے ساتھ ریلوے لنک کے ذریعے چین تک زمینی رسائی حاصل کرنے کے منصوبے پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کو کمزور کر کے دراصل برکس ممالک اور ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کو نشانہ بنانا چاہتا ہے، لیکن چین اور روس کی مدد سے ایران نے اس معاشی ناکہ بندی کو غیر موثر کر دیا ہے، جبکہ اس کا اصل بوجھ یورپی ممالک پر بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کی صورت میں پڑ رہا ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔