اتوار، 26-اپریل،2026
اتوار 1447/11/09هـ (26-04-2026م)

وائٹ ہاؤس کی تقریب میں ٹرمپ کی موجودگی کے دوران فائرنگ، مسلح حملہ آور گرفتار

26 اپریل, 2026 08:45

واشنگٹن میں صحافیوں کی سالانہ تقریب کے دوران شدید فائرنگ کی آوازیں گونج اٹھیں، ایف بی آئی نے ایک مسلح شخص کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے، جس کے قبضے سے بھاری اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی سالانہ عشائیہ تقریب میں اس وقت افراتفری اور خوف و ہراس پھیل گیا، جب اچانک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ اس تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کی کابینہ کے ارکان، اعلیٰ حکام اور ہزاروں صحافی موجود تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق تقریب ابھی جاری ہی تھی کہ ہوٹل کی راہداریوں میں یکے بعد دیگرے پانچ دھماکے سنائی دیئے، جو بظاہر خودکار ہتھیاروں کی فائرنگ معلوم ہو رہے تھے۔

آواز سنتے ہی خفیہ سروس کے اہلکار متحرک ہو گئے اور اسٹیج پر موجود صدر ٹرمپ اور خاتون اول کو فوری طور پر وہاں سے نکال لیا گیا۔ اس دوران ہال میں موجود ہزاروں مہمانوں نے میزوں کے نیچے چھپ کر اپنی جانیں بچائیں جبکہ سیکیورٹی اہلکار مسلسل نیچے جھک جاؤ کی صدائیں بلند کرتے رہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے واقعے کی تفصیل بتایا کہ خفیہ سروس کے اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کو قابو کر لیا ہے۔

کاش پٹیل کے مطابق ایف بی آئی کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں اور وہاں سے برآمد ہونے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار (لانگ گن) اور گولیوں کے خول قبضے میں لے کر بیلسٹک تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر جوہری حملے کے امکان سے انکار

نگراں اٹارنی جنرل نے میڈیا کو بتایا کہ ملزم کے خلاف اسلحہ رکھنے اور فائرنگ کرنے سمیت متعدد سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے تلاشی کے وارنٹ حاصل کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ملزم کی تصاویر جاری کر دیں اور ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہی اس حملے کا ہدف تھے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کا خیال ہے کہ حملہ آور کسی گروہ کا حصہ نہیں بلکہ ایک تنہا بھیڑیا (لون وولف) ہے، جس نے انفرادی طور پر یہ کارروائی کی۔ صدر نے اس حملے کا ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کو خارج از امکان قرار دیا۔

واقعے کے وقت ہال کے اندر موجود مناظر انتہائی خوفناک تھے۔ جب فائرنگ ہوئی تو ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل، جو ہال میں موجود تھے، فوری طور پر اپنی دوست کو بچانے کے لیے ان کے اوپر لیٹ گئے اور بعد ازاں سیکیورٹی اہلکار میزیں پھلانگتے ہوئے ان تک پہنچے اور انہیں وہاں سے نکالا۔

اسی طرح اسٹیفن ملر اور پیٹ ہیگستھ جیسے اعلیٰ مشیروں کو بھی حفاظتی حصار میں باہر لے جایا گیا۔ تقریب میں موجود دیگر معززین، جن میں رابرٹ کینیڈی جونیئر اور جینین پیرو شامل تھے، کو بھی ہنگامی بنیادوں پر نکالا گیا۔

کاؤنٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار طویل فاصلے تک مار کرنے والی بندوقیں تانے اسٹیج پر پوزیشن سنبھالے ہوئے دیکھے گئے، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس پول کے نمائندوں کے مطابق، سیکیورٹی اہلکاروں نے بتایا کہ ایک مسلح شخص نے دھاتی سراغ رساں آلات (میگنیٹومیٹر) سے زبردستی گزرنے کی کوشش کی تھی، جسے بروقت ناکام بنا دیا گیا۔

ہوٹل کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور پورے علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ تمام کابینہ ارکان اور نائب صدر محفوظ ہیں۔

انہوں نے ابتدا میں تقریب جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن سیکیورٹی پروٹوکول کی وجہ سے پروگرام ملتوی کر دیا گیا ہے، جو اب تیس دنوں کے اندر دوبارہ منعقد ہوگا۔ اس سیکیورٹی بریچ نے واشنگٹن کے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے زون میں حفاظتی انتظامات پر بڑے سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔