بیرون ملک مقیم افغان باشندوں کے مجرمانہ نیٹ ورکس میزبان ممالک کیلئے سنگین چیلنج

افغان میڈیا کے مطابق دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور سنگین جرائم میں ملوث افغان باشندے میزبان ممالک کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ بن کر ابھرے ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم افغان باشندوں کی جانب سے مجرمانہ نیٹ ورکس کی تشکیل اور سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے واقعات نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر گھناؤنے جرائم میں افغان شہریوں کی شمولیت میزبان ممالک کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔
افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان شہریوں نے جہاں جہاں پناہ لی، وہاں کے امن و امان کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
رپورٹ میں خاص طور پر تاجکستان کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں افغان شہری منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی، جنسی جرائم اور جوئے کے اڈوں جیسے گھناؤنے کاروبار میں براہ راست ملوث پائے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق تاجکستان میں منشیات کی اسمگلنگ کے 670 اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں 32 افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں، جن کے خلاف مقامی حکام نے سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار اور ملک بدر کر دیا ہے۔
صورتحال صرف وسطی ایشیا تک محدود نہیں بلکہ یورپی ممالک میں بھی افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران امریکہ ثالثی سبوتاژ کرنے کیلئے پاکستان مخالف بھارتی و افغان پروپیگنڈا بے نقاب
پولینڈ میں بھی رواں ماہ کے دوران درجن سے زائد غیر قانونی افغان باشندوں کو گرفتار کر کے جیل منتقل کیا گیا ہے۔ ان افراد پر ریاست مخالف سرگرمیوں اور مقامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ماہرینِ سیکیورٹی کا ماننا ہے کہ متعدد ممالک کی جانب سے افغان شہریوں پر ویزہ پابندیاں اور ان کی بڑے پیمانے پر ملک بدری دراصل ان کی مسلسل مجرمانہ سرگرمیوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تمام جرائم پیشہ عناصر کسی نہ کسی سطح پر افغان رجیم کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں، جو نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ عالمی سطح پر سیکیورٹی کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔
ان مجرمانہ نیٹ ورکس کی موجودگی نے ان حقیقی پناہ گزینوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں، جو امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









