جمعرات، 14-مئی،2026
جمعرات 1447/11/27هـ (14-05-2026م)

اقوام متحدہ کے سابق عہدیدار کا پاکستانی قیادت کیلئے نوبل امن انعام کا مطالبہ

14 مئی, 2026 11:57

اقوام متحدہ کے سابق عہدیدار پاکستان کی سفارتی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستانی قیادت کو امن کے لیے نوبل انعام کا مستحق قرار دے دیا۔

پاکستان ٹی وی کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے انسپکٹر اور معروف تجزیہ کار اسکاٹ ریٹر نے خطے کی موجودہ صورتحال اور امن کی کوششوں میں پاکستان کے مرکزی کردار پر مفصل گفتگو کی ہے۔

اسکاٹ ریٹر نے کہا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے پاکستان واحد ملک ہے، جو ایک مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔

انہوں نے پاکستانی قیادت کی بصیرت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی سطح پر کسی کو نوبل امن انعام کا حقدار ہونا چاہیے، تو وہ پاکستان کی قیادت ہے، جس نے اس مشکل وقت میں امن کی شمع روشن رکھی ہے۔

اسکاٹ ریٹر نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کا اعتراف کرے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں عالمی طاقتوں نے پاکستان کی صلاحیتوں کا فائدہ تو اٹھایا، لیکن اسے وہ مقام نہیں دیا، جس کا وہ حقدار تھا۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کا ایران امریکہ بحران کے سفارتی حل پر زور، پاکستانی ثالثی کی حمایت

ریٹر نے زور دیا کہ ہمیں یعنی عالمی برادری کو پاکستان کا استحصال بند کرنا ہوگا اور اس کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب یہ حالیہ جنگ ختم ہوگی، تو دنیا کو یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستان نے عالمی امن کے لیے کتنا بڑا جوا کھیلا اور اس میں کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے پاکستانی عوام اور قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ ایک ذمہ دار ریاست بھی ہے، جو عالمی مسائل کے حل کے لیے تعمیری سوچ رکھتی ہے۔

اسکاٹ ریٹر کے مطابق، امریکی صدر کے دورہ چین کے باوجود، حتمی طور پر اس بحران کا پرامن حل پاکستان کے ذریعے ہی نکلے گا۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔