معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی، مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی، وزیر خزانہ

Economy Grew Despite Middle East Crisis
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی، مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی اقتصادی سروے گزشتہ سال کی معاشی کہانی بیان کرتا ہے، ہمیں سیلاب کی وجہ سے معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، اقتصادی سروے پورے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے، رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں سیلاب کی وجہ سے معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، مختلف چیلنجز نے پاکستان کا معاشی امتحان لیا، معاشی ترقی کی شرح نمو3.7 فیصد رہی، امریکی ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی، مون سون بارشوں کی وجہ سے بھی معیشت متاثر ہوئی، چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہمیں یقین تھا اس سال گروتھ 4 فیصد سے تجاوز کرجائے گی، پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا، زرعی شعبے کی شرح نمو2.89فیصد رہی، ایران جنگ کی وجہ سے معاشی گروتھ کا ہدف حاصل نہ ہوسکا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیری اور لائیو اسٹاک کا زرعی معیشت میں 60فیصد حصہ ہے، بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح نمو 6.1فیصد رہی، فوڈ، ٹیکسٹائل سمیت 16شعبوں میں مثبت رجحان رہا، سیمنٹ کی طلب میں 10فیصد اضافہ ہوا، کھاد کی طلب میں 17فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ خدمات کے شعبے میں شرح نمو 4.9فیصد رہی، ایف بی آر کے محصولات میں 10.1فیصد اضافہ ہوا، افراط زر میں گزشتہ 2سال میں بتدریج کمی ہوئی، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا، رواں مالی سال پہلے 10ماہ میں ترسیلات 33ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں، بیرونی ادائیگی کیلئے ترسیلات زر اہمیت کے حامل ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا مقصد سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، ٹیکسٹائل کے شعبے کا برآمدات میں کلیدی کردار ہے، پیٹرولیم سیکٹر میں 5فیصد گروتھ ہوئی، زرمبادلہ کے ذخائر 17ارب ڈالر سےزائد ہیں، جون کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 18ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اسپورٹس کی برآمدات3ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں، فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان کا بنا ہوا فٹ بال استعمال ہوگا، رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 3لاکھ تک پہنچ چکی، مینوفیکچرنگ کے 22میں سے 16شعبوں میں بہتری آئی، مینوفیکچرنگ کے 22میں سے 16شعبوں میں بہتری آئی۔
انہوں نے کہا کہ مالی خسارہ کم ہوکر جی ڈی پی کا صرف0.7فیصد رہ گیا، مہنگائی کی اوسط شرح 6.7فیصد رہی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوکر 252ملین ڈالر رہ گیا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری 12.7ارب ڈالر تک پہنچ گئی، پانڈا بانڈ کا کامیاب اجرا کیا گیا، ٹیکس محصولات میں 11.3فیصد اضافہ ہوا، فری لانسرز کا معیشت میں حصہ ایک ارب ڈالر کے قریب ہے، زرعی قرضوں میں 15فیصد اضافہ ہوا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










