چینی فضائیہ کا J20 اسٹیلتھ جنگی طیاروں کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ، پینٹاگون کیلئے بڑا چیلنج

چینی فضائیہ نے اپنے جدید ترین پانچویں نسل کے اسٹیلتھ جنگی طیاروں کی پیداوار میں ریکارڈ رفتار سے اضافہ کر کے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
فیکٹری سے حاصل ہونے والی تازہ ترین تصاویر میں جے بیس اے نسل کے بالکل نئے اسٹیلتھ جنگی طیاروں کو پیلے رنگ کے ابتدائی فیکٹری پرائمر میں دیکھا جا سکتا ہے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ جدید ترین ڈبلیو ایس پندرہ ٹربوفین انجنوں سے لیس ان طیاروں کی سیریل پروڈکشن اب پورے عروج پر ہے۔
چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی فضائیہ نے 2030 تک تقریباً ایک ہزار J20 طیاروں کو بیڑے میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے تحت سالانہ 120 جنگی طیارے تیار کیے جائیں گے۔
خریداری اور پیداوار کی یہ رفتار دنیا کی کسی بھی دوسری فضائیہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اور کوئی بھی ملک اس کا مقابلہ کرنے کے قریب بھی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چین کا نیا کوانٹم کمپیوٹر جیوژانگ 4.0 تیار، ٹیکنالوجی کی دوڑ میں امریکہ کو بدترین شکست
دفاعی ماہرین کے مطابق WS-15 انجن مکمل طور پر ایک نیا اور منفرد ڈیزائن ہے، جبکہ اس کے برعکس امریکہ کا آخری بالکل نیا فائٹر انجن F119 تھا، جس نے پہلی پرواز سال 1990 میں کی تھی اور وہ تقریباً 30 سال قبل سروس میں شامل ہوا تھا۔
یہ نیا چینی انجن طیارے کو زبردست تھرسٹ، طویل فاصلے تک پرواز، سپر کروز کی صلاحیت اور ذیلی نظاموں کے لیے بے پناہ طاقت فراہم کرتا ہے، جبکہ اس کی دیکھ بھال پر آنے والے اخراجات اور وقت بھی انتہائی کم ہیں۔
اس کے تھرسٹ ٹو ویٹ ریشو کا مقابلہ دنیا میں صرف امریکی F-35 طیارے کا F135 انجن ہی کر سکتا ہے۔ چین نے طیارے کی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرنے کے بعد اس کی پیداوار میں یہ تیز ترین اضافہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے بیجنگ نے سال 2021 میں ڈبلیو ایس دس سی انجن کے ساتھ کیا تھا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ چین بڑے پیمانے پر پیداوار سے قبل معیار میں انقلابی تبدیلی کو اولیت دیتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










