جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

امریکی بحری ناکہ بندی ناکام، ایران نے بنیادی غذائی اجناس میں خود کفالت حاصل کر لی

22 مئی, 2026 13:02

شدید امریکی دباؤ، معاشی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران نے زرعی شعبے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے بنیادی غذائی اجناس میں 85 فیصد خود کفالت حاصل کر لی ہے۔

ایران کے وزیر زراعت وزیر زراعت غلام رضا نوری کا کہنا ہے کہ ملک کی 85 فیصد بنیادی غذائی ضروریات اب مقامی سطح پر پوری کی جا رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق دباؤ کے باوجود ایران کی سپر مارکیٹوں میں اشیائے خور و نوش کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رہی اور بنیادی ضروریات کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی۔

حتیٰ کہ ناکہ بندی کے انتہائی حساس مراحل میں بھی روٹی کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی کیونکہ حکومت نے پہلے ہی گندم کی پسائی تیز کر دی تھی اور بیکریوں کے لیے متبادل ایندھن کا بندوبست کر لیا گیا تھا۔

تاہم ایران کی حکمت عملی صرف داخلی پیداوار تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے بیرون ملک کاشتکاری کو بھی قومی غذائی تحفظ کا حصہ بنا دیا ہے۔

پانچ سالہ منصوبے کے تحت ایران نے بیرون ملک تقریباً بیس لاکھ ہیکٹر زمین پر زرعی پیداوار کا ہدف مقرر کیا ہے۔ قومی غذائی تحفظ پالیسی کے مطابق سن 2031 تک ایران کو ماورائے سرحد کاشتکاری کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ ٹن خوراک حاصل کرنا ہوگی تاکہ بیرونی سپلائی پر انحصار تقریباً ختم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ سے سبق، چین کا بڑا توانائی منصوبہ، صحرا میں دنیا کا سب سے بڑا خودکار صنعتی مرکز قائم

اس حکمت عملی کے تحت ایران نے مختلف ممالک میں زرعی تعاون اور زمینوں کے حصول پر توجہ دی ہے۔ برازیل سے مکئی، قازقستان سے جو اور تیل دار بیج، جبکہ بیلاروس، روس، گھانا، آرمینیا اور پاکستان میں زرعی منصوبے اس پالیسی کا حصہ بن چکے ہیں۔

حکام کے مطابق حالیہ مہینوں میں تقریباً ساٹھ ہزار ٹن جو اور چالیس ہزار ٹن کوکنگ آئل شمالی راہداری کے ذریعے ایران پہنچایا گیا، جس نے ثابت کیا کہ صرف خلیج فارس پر دباؤ ڈال کر ایران کی غذائی سپلائی کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا۔

ایران نے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی تیزی سے بڑھایا ہے۔ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے ساتھ تکنیکی شراکت داری کے تحت مصنوعی ذہانت سے لیس سیٹلائٹ مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جو حقیقی وقت میں فصلوں کی صورتحال، پیداوار اور ممکنہ قلت کا اندازہ لگا کر فوری پالیسی فیصلوں میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ایران کی یہ حکمت عملی زراعت کو صرف خوراک کی فراہمی کے شعبے سے نکال کر قومی سلامتی اور معاشی مزاحمت کے ایک اہم ہتھیار میں تبدیل کر رہی ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران غیر تیل برآمدات میں زرعی شعبے کا حصہ بارہ فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس سے خوراک اب غیر ملکی زرمبادلہ حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بنتی جا رہی ہے۔

ایران نے اس ماڈل کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ سخت پابندیوں اور ناکہ بندی کے باوجود اگر مقامی پیداوار، اسٹریٹجک ذخائر اور متبادل سپلائی راستوں پر توجہ دی جائے تو غذائی تحفظ کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔