ایران جنگ کے معاملے پر ٹرمپ اور نیتن یایو کے درمیان فون پر شدید تلخ کلامی

ٹرمپ اور نیتن یایو کے درمیان ایران جنگ پر شدی
د اختلافات سامنے آئے ہیں، دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی تازہ ترین ٹیلیفونک گفتگو انتہائی تلخ رہی ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی گفتگو نے ایران جنگ کو آگے بڑھانے کے حوالے سے ان کے مختلف نظریات کو واضح کر دیا ہے۔
خلیجی ممالک اس وقت وائٹ ہاؤس اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے فریم ورک پر کام کر رہے ہیں، جس سے سفارتی بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ آخری مراحل میں ہیں، یا تو کوئی معاہدہ ہو جائے گا یا پھر ہم کچھ سخت اقدامات کریں گے، لیکن امید ہے کہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
جاری سفارتی مذاکرات نے اسرائیلی وزیر اعظم کو شدید مایوس اور غصے میں مبتلا کر دیا ہے، جو طویل عرصے سے تہران کے خلاف جارحانہ فوجی حکمت عملی کے حامی رہے ہیں۔
نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ سفارتی تاخیر کا پورا فائدہ صرف تہران کو مل رہا ہے اور انہوں نے صدر ٹرمپ سے واضح الفاظ میں کہا کہ متوقع حملوں کو روکنا ایک بہت بڑی غلطی تھی اور صدر کو اپنے پرانے منصوبے کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے تھی۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کو یقین نہیں کہ مذاکرات کا کوئی نتیجہ نکلے گا، کیونکہ ایران نے افزودہ یورینیم کو کسی تیسرے ملک کے دینے سے صاف انکار کیا ہے۔
ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس گفتگو میں نیتن یاہو نے فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ٹرمپ سفارتی معاہدہ چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو کی توقعات کچھ اور تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے اپنی فوجی صلاحیتیں بحال کر رہا ہے، امریکی انٹیلی جنس
رائٹرز نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت ملک کا یورینیم ذخیرہ بیرون ملک نہیں بھیجا جائے گا، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو تاحال ایسی کسی گائیڈ لائن کی اطلاع نہیں ملی اور صدر ٹرمپ نے اب بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ افزودہ یورینیم حاصل کر کے اسے تباہ کر دیں گے۔
اسرائیلی حکومت کے اعلیٰ حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کو سفارتی طور پر وقت ضائع کرنے کا موقع دے رہے ہیں اور وہ صرف دھمکیاں دینے کے بعد حملے روک دیتے ہیں۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کو کیا جواب دیا تو انہوں نے رعونت آمیز لہجے میں کہا کہ نیتن یاہو وہی کریں گے، جو میں ان سے کہوں گا۔
پاکستان اس تنازع کے سفارتی حل کے لیے مرکزی اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور اپریل میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح کی براہ راست ملاقات کی میزبانی بھی پاکستان نے ہی کی تھی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی سویڈن روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ کچھ اچھے اشارے مل رہے ہیں لیکن وہ حد سے زیادہ پرامید نہیں ہونا چاہتے اور اگر ایک اچھا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی۔
ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان جوہری پروگرام اور منجمد اثاثوں جیسے بنیادی اور پیچیدہ مسائل تاحال حل طلب ہیں اور تہران اپنے اصولی مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










