امریکہ نے 30 سال پرانے واقعے پر کیوبا کے 94 سالہ سابق صدر پر فردِ جرم عائد کر دی

امریکہ نے راول کاسترو پر 1996 میں دو طیارے مار گرائے جانے کے واقعے میں قتل، امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی سازش اور طیارے کی تباہی سمیت دیگر الزامات کے تحت باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی ہے۔
راول کاسترو جدید کیوبا کی تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ فیڈل کاسترو کے چھوٹے بھائی راول کاسترو نے سنہ 2008 سے 2018 تک کیوبا کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں، جبکہ اس سے قبل تقریباً پانچ دہائیوں تک وزیر دفاع رہے۔ انہوں نے سنہ 1959 کے کیوبن انقلاب کے بعد کیوبا کے فوجی اور سیکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
فردِ جرم کا تعلق انسدادِ کاسترو گروپ برادرز ٹو دی ریسکیو کے دو طیاروں کو سنہ 1996 میں مار گرائے جانے کے واقعے سے ہے۔ اس واقعے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے، جب کیوبن مگ جنگی طیاروں نے اپنی فضائی حدود کے قریب ان طیاروں کو روکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی بحری ناکہ بندی ناکام، ایران نے بنیادی غذائی اجناس میں خود کفالت حاصل کر لی
رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے اہم اہداف حاصل نہ ہونے کے بعد اب کیوبا کے معاملے کو سیاسی طور پر استعمال کر رہی ہے تاکہ مڈٹرم انتخابات سے قبل ریپبلکن جماعت کا امیج بہتر بنایا جا سکے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فردِ جرم 1996 کے واقعے میں انصاف فراہم کرنے کے لیے ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق وسیع تر حکمت عملی کا مقصد کیوبا کی حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے۔ اس حکمت عملی کا موازنہ پہلے نکولس مادورو کے خلاف اپنائے گئے امریکی اقدامات سے بھی کیا جا رہا ہے، جہاں مجرمانہ فردِ جرم کو پابندیوں، سفارتی دباؤ اور دیگر اقدامات کے ساتھ استعمال کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق بعض امریکی شخصیات نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ ضرورت پڑنے پر راول کاسترو کو طاقت کے ذریعے گرفتار کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









