پیر، 25-مئی،2026
پیر 1447/12/08هـ (25-05-2026م)

روس اور چین کے درمیان میگا گیس پائپ لائن منصوبہ، ماسکو نے یورپ کا متبادل تلاش کر لیا

25 مئی, 2026 12:32

روس اور چین کے درمیان 26 سو کلومیٹر طویل پاور آف سائبیریا ٹو گیس پائپ لائن منصوبے پر کام جاری ہے، جو روس کے آرکٹک گیس کو منگولیا کے راستے چین پہنچا کر مغربی پابندیوں کو ناکام بنا دے گا۔

روس اور چین کے طویل مدتی توانائی کے معاہدے کے تحت 26 سو کلومیٹر طویل پاور آف سائبیریا ٹو گیس پائپ لائن روس کے آرکٹک گیس کو منگولیا کے راستے شمالی چین منتقل کرے گی۔

تکمیل کے بعد یہ پائپ لائن سالانہ 50 ارب کیوبک میٹر گیس منتقل کرے گی، جو نورڈ اسٹریم ون کی صلاحیت کے برابر ہے، جو کبھی یورپ کو روسی گیس فراہم کرتی تھی۔

روس پہلے ہی سال 2014 میں دستخط کیے گئے، 400 ارب ڈالر کے 30 سالہ معاہدے کے تحت اصل پاور آف سائبیریا پائپ لائن کے ذریعے چین کو سالانہ 38 ارب اسی کروڑ کیوبک میٹر گیس فراہم کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ اور چین کے درمیان کوانٹم کمپیوٹر کو جنگی ہتھیار بنانے کی دوڑ تیز

اس نئی پائپ لائن سے روس کا توانائی کا مستقبل مستقل طور پر ایشیا سے منسلک ہو جائے گا اور مغرب کی مالیاتی پابندیاں ناکام ہو جائیں گی۔

سال 2022 سے 2025 کے دوران روس نے یورپ سے دو سو ارب ڈالر سے زائد مالیت کا تیل اور گیس ایشیا کی طرف موڑ دی ہے، جس کی نوے فیصد ادائیگی روبل، یوآن اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں میں کی گئی تاکہ سوئفٹ نظام اور پابندیوں سے بچا جا سکے۔

چین کے لیے یہ پروجیکٹ آبنائے ہرمز اور ملاکا جیسے سمندری راستوں کا خطرہ ختم کر دے گا اور دونوں پائپ لائنز مل کر سالانہ 90 ارب کیوبک میٹر گیس فراہم کریں گی، جو چین کی کل کھپت کا بیس فیصد ہے۔

اس منصوبے سے چین کو سستی گیس ملے گی اور سال 2025 کے اوائل میں چین کی مہنگی ایل این جی درآمدات میں 13.7 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

منگولیا اس منصوبے میں سویوز ووسٹوک روٹ کے تحت ٹرانزٹ ملک کا کردار ادا کرے گا، جس سے اسے سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر فیس ملے گی، جو اس کی کل جی ڈی پی کا آٹھ فیصد ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔