وزیراعظم کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس؛ قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری

NEC Approves National Development Budget
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور ملک کی مجموعی ترقیاتی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں نئے مالی سال کے قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔ اس کے ساتھ وفاقی اور صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں کو بھی منظور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران مختلف شعبوں میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا تاکہ وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔ رواں مالی سال 2025-26 کے ترقیاتی اخراجات اور منصوبوں کی پیش رفت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
صوبائی حکومتوں نے اپنے سالانہ ترقیاتی پروگراموں (اے ڈی پی) کے حوالے سے پریزنٹیشنز پیش کیں اور مختلف منصوبوں کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ پروگرام (PSIP) کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ مختلف ترقیاتی منصوبوں پر سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر یکم اپریل 2025 سے 31 مارچ 2026 تک سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ اسی عرصے کے دوران ایکنک سے منظور ہونے والی مختلف ترقیاتی اسکیموں کی تفصیلات بھی اجلاس میں زیر بحث آئیں۔
اجلاس میں میگا ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور جائزہ رپورٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ بڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شفاف نگرانی قومی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر اور دیگر اہم حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت متعدد وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔ شرکاء نے ملک کی معاشی ترقی اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو
وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام شرکا کو اجلاس میں شرکت پر خوش آمدید کہتا ہوں، وزیر اعلیٰ پنجاب علیل ہونے کے باعث تشریف نہ لاسکیں، بجٹ سے متعلق مشاورت اور معاونت پر تمام وزرائے اعلیٰ کا مشکور ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بہترین مفاد میں قومی فیصلے کیے، ملکی معیشت کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، روزگار کے مواقع، برآمدات، معاشی بہتری سب کی مشترکہ ذمے داری ہے، پیداواری صلاحیت بڑھانا بھی ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ میکرو لیول پر ہماری معیشت مستحکم ہے، سب نے آئی ایم ایف پروگرام پر عمل پیرا رہنے کے عزم کو دہرایا، وفاق نے ہر معاملے پر انتہائی سنجیدگی سے صوبوں سے مشاورت کی، بہتر مینجمنٹ کی وجہ سے پیٹرول کیلئے لائنیں نہیں لگیں، صوبوں کے ساتھ کئی ماہ سے مشاورت کا سلسلہ جاری تھا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج وفاق کیلئے اضافی وسائل فراہم کرنا ہے، دفاع کو مضبوط بنانا سب سے بڑاچیلنج ہے، جب تک مل کر کام نہیں کریں گے دہشت گردی کا ناسور ختم نہیں ہوگا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











