ایران کے میزائل صرف چلانے کیلئے ہیں، مذاکرات کیلئے نہیں، ایرانی وزارت خارجہ

اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے میزائل پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں کرے گا اور امریکہ کی ہر حرکت پر سخت نظر رکھی جائے گی۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے معاہدے پر دستخط کے بعد ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہم تفصیلات بتائی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی نرمی کے بغیر امریکی عملدرآمد کی نگرانی کرے گا اور اگر واشنگٹن نے اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کی تو ایران بھی اپنے وعدے پورے نہیں کرے گا۔
انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ اگلے 60 دنوں کے دوران ایران کے ایٹمی پروگرام اور پابندیاں ہٹانے پر تو بات ہوگی لیکن ایران کا میزائل پروگرام اس بحث کا حصہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیئے، ایران کے پاس میزائل نہ ہونا ناانصافی ہوگی، ٹرمپ
بقائی کے مطابق ایران کے میزائل صرف چلانے کیلئے ہیں، مذاکرات کیلئے نہیں، اور ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی فریق کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
لبنان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو تنہا نہیں چھوڑتا اور اب یہ امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کو مجبور کرے کہ وہ ایران کے ساتھ کیے گئے وعدوں کا احترام کرے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اپنے اعلیٰ سطح کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ملک سے باہر نہیں بھیجے گا اور مواد کو پتلا کرنا صرف دوسرے امکانات کے راستے بند کرنے کا ایک آپشن ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران سلطنت عمان کے ساتھ مل کر اس آبی گزرگاہ کو چلانے کا نیا نظام فائنل کرے گا اور وہاں دی جانے والی خدمات پر فیس وصول کی جائے گی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












