جمعرات، 18-جون،2026
جمعرات 1448/01/03هـ (18-06-2026م)

سندھ نے پہلی بار دفاع کے لیے فنڈز دیئے، یہ بھتہ نہیں آئینی ذمہ داری ہے، وزیر اعلیٰ سندھ

18 جون, 2026 14:53

مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ صوبے کا کل آمدنی کا حجم 3525 ارب روپے ہے اور سندھ نے پہلی بار آئینی اختیارات کے تحت دفاع کے لیے فنڈز دیئے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی بجٹ اور مستقبل کی اہم معاشی حکمت عملی سے پردہ اٹھایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے دفاع کے لیے پیسے دیے ہیں اور اس آئینی شق کو شامل کرنے پر وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو سلام پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ وفاق کو دیے گئے فنڈز کوئی بھتہ نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری ہے، جو 3 سال تک دیے جائیں گے اور اگلے سالوں میں یہ صوبائی حصہ کم ہوتا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کے مطابق وفاق سے سندھ کو کل 2263 ارب روپے ملنے ہیں جبکہ صوبائی محصولات کا ہدف 456 ارب روپے رکھا گیا ہے اور کل محصولات 3.083 کھرب روپے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ بجٹ کی کل آمدنی کا حجم 3525 ارب روپے ہے، جس میں سب سے بڑا خرچہ تنخواہوں اور پنشن کا ہے۔ حکومت نے سال 2023 اور 2025 کا ایڈہاک الاؤنس بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیا ہے اور کم از کم تنخواہ بڑھا کر 43 ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ مئی تک سندھ کو وفاقی محصولات میں 441 ارب روپے کا خسارہ ہوا جبکہ صوبائی وصولیوں میں 52 ارب کا خسارہ ہوا، جس سے بجٹ میں کل 300 ارب روپے کے قریب خسارہ ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ فنڈز میں کمی کے باعث ترقیاتی بجٹ متاثر ہوا ہے اور صوبائی ترقیاتی بجٹ گزشتہ سال کے 1018 ارب سے کم ہو کر 720 ارب روپے رہ گیا ہے۔ اس سال بجٹ میں کوئی نئی اسکیم شامل نہیں کی گئی بلکہ 2056 جاری اسکیموں کو مکمل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کی سندھ حکومت سے سبسڈی نہ ملنے پر شہر بھر میں ہڑتال

انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ، کسانوں اور پیٹرول پر ریلیف کی وجہ سے اس سال بجٹ سے ہٹ کر بڑے اخراجات ہوئے ہیں۔ کسانوں کو سپورٹ ملنے کی وجہ سے گندم کی پیداوار گزشتہ سال کے 3.5 ملین ٹن سے بڑھ کر 4.9 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے۔

مراد علی شاہ نے متعدد گیم چینجر منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اور سندھ گرین انرجی ڈیٹا سینٹر بنائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تھر کے ماڈل پر بننے والے ڈیٹا سینٹر کے لیے ہمارے پاس جو سولر انرجی موجود ہے، اسے وفاق لینے کو تیار نہیں، اس لیے اب یہ بجلی عالمی کمپنیوں کو بیچی جائے گی۔ مڈل انکم والے افراد کو گھروں میں سولر لگانے کے لیے سندھ بینک کے ذریعے سستے قرضے دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ زراعت کے لیے ایگری کلچرل کلیکٹوز کا قانون لایا جا رہا ہے، جس کے تحت 10 کسانوں کی زمینیں ملا کر انہیں بڑے قرضے، ڈرپ ایریگیشن اور لیزر لیولر دیے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صدر زرداری اور چیئرمین بلاول کی ہدایت پر کیٹی بندر پورٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنایا جائے گا، جس کے لیے صدر زرداری نے چین سے بات کر لی ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ کچرے کو کارآمد بنانے کے لیے بھی منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، تاکہ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ چینی انجینئرز کی محنت سے سکھر بیراج کے 44 گیٹ تبدیل کر کے انہیں موٹرائزڈ کر دیا گیا ہے، جس سے بیراج کی زندگی 30 سال بڑھ گئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے پانی کے بحران پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو اس وقت 30 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے جبکہ پنجاب کو صرف 11 فیصد قلت درپیش ہے، ارسا اس معاملے پر غلط بیانی کر رہا ہے۔

اپنی تبدیلی کی افواہوں پر انہوں نے کہا کہ وہ 10 سال سے یہ باتیں سن رہے ہیں اور جن 4 جیالوں کے نام لیے جا رہے ہیں ان سے انہیں کوئی خطرہ نہیں۔

انہوں نے یونیورسٹی روڈ کی تعمیر میں تاخیر پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیکیدار کی نااہلی کی وجہ سے دیر ہوئی مگر اب کام فوج کے ذیلی ادارے کو دینے کے بعد جولائی کے آخر تک روڈ ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔

کرپشن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جہاں بھی شکایت ملتی ہے، سخت کارروائی کی جاتی ہے اور گندی مچھلیوں کو پورا تالاب خراب کرنے نہیں دیا جائے گا۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔