جمعہ، 3-جولائی،2026
جمعہ 1448/01/18هـ (03-07-2026م)

لاہور میں اغوا ہونیوالی غیر ملکی خواتین کا ملزمان سے کیا تعلق تھا؟ تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آگئے

03 جولائی, 2026 16:22

لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور ان کے ساتھ مبینہ زیادتی کے سنگین کیس میں تفتیش کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس ہولناک واردات کے پیچھے کرپٹو کرنسی سے جڑا مالی تنازع اور بھاری رقم کے حصول کی کوشش کارفرما تھی۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش، درج مقدمے اور گرفتار ملزمان کے بیانات سے معلوم ہوا ہے کہ متاثرہ غیر ملکی خواتین اور ملزمان کے درمیان کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے متعلق شراکت داری موجود تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان خواتین سے کرپٹو سرمایہ کاری کے منافع کا مطالبہ کر رہے تھے اور اسی تنازع نے بعد ازاں سنگین جرائم کی شکل اختیار کر لی۔

خواتین کو سرمایہ کاری کے بہانے پاکستان بلایا گیا

تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان نے متاثرہ خواتین کو مزید منافع بخش سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر پاکستان آنے پر آمادہ کیا۔ اس دعوت پر دونوں خواتین 29 جون کو لاہور پہنچیں۔

اطلاعات کے مطابق ان کی واپسی 5 جولائی کو طے تھی، تاہم وطن واپسی سے قبل ہی انہیں مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم خواتین کو دھوکے سے لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس لے گیا، جہاں پہلے سے موجود اس کے مسلح ساتھیوں نے دونوں خواتین کو اغوا کر لیا۔ الزام ہے کہ خواتین کو حبسِ بے جا میں رکھا گیا اور اس دوران ان کے ساتھ مبینہ زیادتی بھی کی گئی۔

ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان مانگنے کا الزام

تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے خواتین کو قید میں رکھنے کے دوران کرپٹو کرنسی کے منافع کے نام پر 15 لاکھ امریکی ڈالر تاوان طلب کیا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر کرپٹو منافع کو اغوا برائے تاوان کی صورت میں وصول کرنا چاہتے تھے۔

پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے تفصیلی بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں جبکہ کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے سائنسی، فرانزک اور دستاویزی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

متاثرہ خواتین کا تعلق نیدرلینڈز اور وینزویلا سے

پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین میں سے ایک کا تعلق نیدرلینڈز جبکہ دوسری کا وینزویلا سے ہے۔ حکام نے بتایا کہ نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی خاتون کے والد نے پنجاب ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی کہ ان کی بیٹی کو لاہور میں اغوا کر لیا گیا ہے۔

اطلاع ملنے کے بعد لاہور پولیس نے سیف سٹی اتھارٹی کی مدد سے فوری کارروائی کی، ملزمان کا سراغ لگایا اور دونوں خواتین کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔

مقدمہ درج، سیاسی تعلقات رکھنے والے ملزم کی بھی تفتیش

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق واقعے کا مقدمہ ڈیفنس سی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے، جس میں اغوا برائے تاوان، زیادتی، جنسی تشدد، غیر قانونی حبس اور دیگر متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خواتین نے الزام عائد کیا ہے کہ محمد رضا ڈار، اس کے مبینہ “باس” اور دیگر ساتھیوں نے 29 جون کو انہیں اغوا کیا، قید میں رکھا، زیادتی کی اور رہائی کے بدلے 15 لاکھ امریکی ڈالر تاوان طلب کیا۔

پولیس حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ نامزد ملزمان میں سے ایک بااثر سیاسی شخصیت کا قریبی رشتہ دار ہے، تاہم تحقیقات مکمل طور پر میرٹ پر کی جا رہی ہیں اور کسی قسم کے سیاسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی شفاف تحقیقات کی ہدایت

پولیس کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر کیس کی شفاف، غیر جانبدار اور تیز رفتار تحقیقات جاری ہیں تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دلائی جا سکے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔