متحدہ عرب امارات میں اے آئی ماہرین کی مانگ میں اضافہ

Great News for UAE Workers
متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کی تیز رفتار ترقی نے ملازمتوں کی مارکیٹ کا رخ بدل دیا ہے۔
نئی رپورٹ کے مطابق اے آئی سے متعلق مہارت رکھنے والے افراد کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے باعث کئی شعبوں میں ان کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ رجحان مزید مضبوط ہوگا اور اے آئی سیکھنے والے افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
گلف نیوز کی رپورٹ اور عالمی مشاورتی ادارے پی ڈبلیو سی کی 2026 گلوبل اے آئی جابز بیرو میٹر کے مطابق متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت کی مہارت رکھنے والے ملازمین بعض شعبوں میں دیگر امیدواروں کے مقابلے میں 92 فیصد تک زیادہ تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی سے واقف افراد کو ترجیح دے رہی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2021 سے 2025 کے دوران متحدہ عرب امارات میں ایسی ملازمتوں کا تناسب، جن میں اے آئی مہارت لازمی قرار دی گئی، ایک فیصد سے بڑھ کر 3.2 فیصد تک پہنچ گیا۔ اسی پیش رفت کے نتیجے میں عالمی سطح پر اے آئی ملازمتوں کی درجہ بندی میں یو اے ای 21ویں نمبر سے ترقی کرتے ہوئے 13ویں پوزیشن پر آ گیا۔ اس عرصے میں اے آئی سے متعلق ملازمتوں کے اشتہارات کی تعداد بھی تقریباً 4 ہزار 600 سے بڑھ کر 12 ہزار 200 تک جا پہنچی۔
ماہرین کے مطابق اب صرف سافٹ ویئر انجینئرز یا اے آئی ڈویلپرز ہی نہیں بلکہ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین سے بھی مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز استعمال کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ فنانس، مارکیٹنگ، ہیومن ریسورسز، کنسلٹنگ اور کسٹمر سروس سمیت متعدد شعبوں میں ایسی مہارت رکھنے والے افراد کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پرامپٹ انجینئرنگ، اے آئی آٹومیشن اور ڈیٹا سے متعلق مہارتیں تیزی سے اہم بنتی جا رہی ہیں۔ ادارے ایسے افراد کی تلاش میں ہیں جو روزمرہ کے کاموں کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے زیادہ مؤثر اور تیز رفتار بنا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اے آئی سیکھنے والے نوجوانوں کے لیے مستقبل میں بہتر کیریئر کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔
پی ڈبلیو سی کی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت ملازمتوں کو ختم کرنے کے بجائے کام کرنے کے طریقہ کار کو تبدیل کر رہی ہے۔ جن اداروں نے اے آئی کو مؤثر انداز میں اپنایا، وہاں پیداواری صلاحیت میں تقریباً 40 فیصد زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ ایسے اداروں میں ملازمین کی کارکردگی بہتر ہوئی جبکہ تنخواہوں اور ترقی کے مواقع میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











