ناگالینڈ میں آسام رائفلز کے قافلے پر باغیوں کا حملہ، ایک بھارتی فوجی ہلاک، 4 زخمی

بھارت کی ریاست ناگالینڈ میں باغیوں نے آسام رائفلز کے قافلے پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی فوجی ہلاک اور 4 شدید زخمی ہو گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ناگالینڈ کے علاقے سکھووی میں آسام رائفلز کے راستے پر پہلے سے نصب دھماکہ خیز مواد کے ذریعے بھارتی فوج کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔
اس آئی ای ڈی حملے میں ایک فوجی موقع پر ہی ہلاک ہو گیا، جبکہ 4 اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں جن کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ناگالینڈ میں ایک ہفتے کے دوران ناگا باغیوں کا یہ دوسرا بڑا حملہ ہے، اس سے قبل 6 جولائی کو بھی اکھرل ضلع میں گھات لگا کر کیے گئے حملے میں 2 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
بھارتی فورسز نے حملے کے فوری بعد سکھووی اور قریبی علاقوں میں سرچ آپریشن کے نام پر مقامی آبادی کو زبردستی گھروں سے بے دخل کرنا شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں : بھارتی ریاست منی پور میں ایک بار پھر نسلی فسادات پھوٹ پڑے، متعدد مکانات کو آگ لگا دی گئی
تاحال کسی باغی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اس علاقے میں پیپلز لبریشن آرمی اور منی پور پیپلز فرنٹ جیسی مسلح تنظیمیں بھارتی فوج کے خلاف سرگرم ہیں۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب ناگا اکثریتی خطے میں آسام رائفلز کے خلاف عوامی سطح پر شدید بے چینی اور غصہ پایا جاتا ہے۔
منی پور اور ناگالینڈ کے مختلف اضلاع میں گزشتہ کئی ماہ سے آسام رائفلز کے کیمپوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔
اکھرول ضلع میں سینکڑوں ناگا خواتین نے احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے فوجی چوکیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی ناگا تنظیموں نے آسام رائفلز پر تشدد، من مانی گرفتاریوں اور ان کی علاقائی و ثقافتی اقدار کی بے حرمتی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
ناگا عوام کے مطابق 1975 کے شیلانگ معاہدے سے بھارتی حکومت کی مبینہ غداری اور بار بار جنگ بندی کے معاہدے ٹوٹنے نے مقامی آبادی کے عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس کے باعث حالیہ برسوں میں یہ مظاہرے مزید شدت اختیار کر چکے ہیں۔
ناگا شورش کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور بھارتی فوج نے پورے خطے کو عملی طور پر ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں تازہ حملے نے سکیورٹی کے سنگین چیلنجز کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









