بھارتی ریاست منی پور میں ایک بار پھر نسلی فسادات پھوٹ پڑے، متعدد مکانات کو آگ لگا دی گئی

بھارتی ریاست منی پور نسلی فسادات کے دوران متعدد مکانات کو آگ لگا دی گئی، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر کے گاؤں کے سربراہ سمیت 2 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
بھارت کے اپنے جریدے "دی اسٹیٹ مین” نے منی پور میں اٹھنے والے نئے فسادات کی سنگین تفصیلات سامنے لا کر مودی سرکار کا پول کھول دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست منی پور کے ضلع امپھال کے جنوبی علاقے میں نسلی فسادات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے دوران متعدد مکانات کو آگ لگا دی گئی ہے۔
گھروں کو جلائے جانے کے ان پرتشدد واقعات اور بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی نے منی پور کے امن کو ایک بار پھر شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
واقعے کے فوری بعد علاقے میں مزید خون خرابے کو روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بھارتی کمپنیوں کا امریکہ میں ویزہ جعلسازی کا بڑا اسکینڈل بے نقاب
بھارتی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ مکانات کو آگ لگانے اور فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں ہینگ جنگ گاؤں کے سربراہ سمیت 2 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب بھارت کی معروف انسانی حقوق کی کارکن نندتا ہاکسر نے منی پور کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مودی سرکار کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مودی سرکار منی پور میں ہونے والے پرتشدد واقعات اور اپنی ناکامی کی اصل وجوہات کو دنیا سے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
نندتا ہاکسر کے مطابق بھارتی حکومت ان فسادات کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اب اپنی خفت مٹانے کے لیے غیر ملکی مداخلت کے من گھڑت الزامات کو بطور جواز استعمال کر رہی ہے تاکہ اصل حقائق پر پردہ ڈالا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












