مقبوضہ کشمیر سے آسام تک بھارتی یومِ آزادی کا بائیکاٹ، کئی علاقوں میں احتجاج اور ہڑتال

نئی دہلی: بھارتی یومِ آزادی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں مختلف سیاسی و قوم پرست گروہوں کی جانب سے بائیکاٹ اور احتجاج کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بعض علاقوں میں 15 اگست کو ’’یومِ سیاہ‘‘ کے طور پر منانے کی اپیل کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے شمال مشرقی ریاستوں تک مختلف حلقوں نے بھارتی حکومت کی پالیسیوں اور سکیورٹی اقدامات کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ آسام، ناگالینڈ، منی پور اور اروناچل پردیش میں بعض تنظیموں نے سرکاری یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شمال مشرقی ریاستوں کے بعض علاقوں میں سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ اور ہڑتال کی کالز کے باعث سکیورٹی سخت کردی گئی۔ تاہم مختلف علاقوں میں صورتحال کی نوعیت اور احتجاج کی شدت مختلف رہی۔
رپورٹ کے مطابق ناگا قوم پرست تنظیموں نے بھارتی یومِ آزادی کی تقریبات سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ بعض ناگا حلقے 14 اگست کو اپنی الگ قومی شناخت اور آزادی کی جدوجہد سے منسوب دن کے طور پر مناتے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ناگا تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ناگا عوام کی سیاسی اور قومی شناخت کو بھارتی ریاستی ڈھانچے میں ضم کرنے کی کوششیں قابل قبول نہیں۔ بعض تنظیموں نے خودمختاری، قومی پرچم اور الگ آئینی شناخت کے مطالبات برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض ناگا نوجوانوں نے بھارتی پرچم نذر آتش کرنے سے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں، تاہم ایسی ویڈیوز اور ان کے سیاق و سباق کی آزادانہ طور پر تصدیق ضروری ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آسام، ناگالینڈ اور منی پور میں مختلف قوم پرست اور علیحدگی پسند تنظیموں نے بھارتی یومِ آزادی کے موقع پر ہڑتال یا بائیکاٹ کی اپیل کی۔
منی پور میں بعض تنظیموں کی جانب سے 12 گھنٹے کی عام ہڑتال کی کال دی گئی، جبکہ دیگر گروہوں نے بھی سرکاری تقریبات سے دور رہنے کا اعلان کیا۔
رپورٹ کے مطابق منی پور کے بعض علاقوں میں سیاہ پرچم لہرانے اور سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ریاست میں پہلے ہی نسلی اور سیاسی کشیدگی کے باعث سکیورٹی صورتحال حساس ہے۔
مختلف ریاستوں میں یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ کی اپیلیں بھارت کے لیے داخلی سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز کو نمایاں کرتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں میں شناخت، خودمختاری اور سیاسی حقوق کے دیرینہ مسائل اب بھی مکمل طور پر حل نہیں ہوسکے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بعض قوم پرست تنظیمیں بھارتی عمل داری کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کرتی رہی ہیں۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ 15 اگست کی سرکاری تقریبات مقامی قوموں کے حقِ خودارادیت کو نظرانداز کرتی ہیں۔
تاہم بھارت کی جانب سے ان علاقوں میں علیحدگی پسند سرگرمیوں اور مسلح تنظیموں کے مؤقف کو قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
بائیکاٹ اور ہڑتال کی کالز کے پیش نظر شمال مشرقی بھارت کے حساس علاقوں میں سرکاری تنصیبات، اہم مقامات اور سرحدی علاقوں کے گرد سکیورٹی بڑھانے کی اطلاعات ہیں۔
مجموعی طور پر مختلف علاقوں میں یومِ آزادی کے بائیکاٹ سے متعلق دعوے بھارتی ریاست کے سامنے موجود دیرینہ شناختی، سیاسی اور سکیورٹی مسائل کی جانب توجہ مبذول کراتے ہیں۔ تاہم مختلف تنظیموں کے دعووں اور زمینی صورتحال میں فرق ہوسکتا ہے، اس لیے تمام اطلاعات کی آزادانہ تصدیق اہم ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










