جمعہ، 24-جولائی،2026
جمعہ 1448/02/10هـ (24-07-2026م)

سپریم کورٹ کے پاس نیب مقدمات سننے کا اختیار نہیں، عدالتی فیصلہ

24 جولائی, 2026 14:29

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس نیب مقدمات سننے کا اختیار نہیں رہا، تمام اپیلیں اور نیب مقدمات وفاقی آئینی عدالت منتقل کر دیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے 3 رکنی بینچ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو کی جانے والی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے پاس نیب مقدمات سننے کا اختیار نہیں رہا۔

یہ بھی پڑھیں : وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کے حوالے سے سپریم کورٹ کے پرانے احکامات واپس لے لیئے

فیصلے مطابق تمام اپیلیں اور نیب مقدمات وفاقی آئینی عدالت منتقل کر دیے گئے ہیں۔ عدالت نے آئین کے آرٹیکل 175، نیب قانون کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت وفاقی حکومت اور نیب کے مؤقف کو درست قرار دیا۔

جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں قائم بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے، جنہوں نے 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

سپریم کورٹ میں ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا، جس میں درخواست گزار کے وکیل نے سپریم کورٹ میں ہی کیس چلانے کے حق میں دلائل دیے تھے، جبکہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور نیب کے وکیل نے موقف اپنایا تھا کہ اپیلیں اور ضمانت کے تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت منتقل ہونے چاہئیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔