بدھ، 19-اگست،2026
بدھ 1448/03/06هـ (19-08-2026م)

امریکی افواج نے 59 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑ دیا، سینٹ کام کا دعویٰ

13 اگست, 2026 08:52

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کے دوران امریکی افواج اب تک 59 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑ چکی ہیں، 3 جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ 2 دیگر پر امریکی اہلکار سوار ہوکر کارروائی کرچکے ہیں۔

سینٹ کام نے 12 اگست تک کی صورتحال پر مشتمل تازہ اعداد و شمار سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے۔ بیان کے ساتھ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش سے ایف اے 18 جنگی طیارے کے پرواز بھرنے کی تصویر بھی شیئر کی گئی۔ امریکی کمانڈ نے اپنی کارروائی کو ایران کے خلاف ’’اسٹیل وال ناکہ بندی‘‘ کا نفاذ قرار دیا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق بحری جہازوں کا رخ موڑنے کی کارروائیوں میں حالیہ دنوں کے دوران تیزی آئی ہے۔ 28 جولائی تک 18 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کیا گیا تھا، جو 3 اگست تک بڑھ کر 44 ہوگیا۔ 11 اگست کو یہ تعداد 55 جبکہ 12 اگست کو 59 تک پہنچ گئی۔

امریکی کمانڈ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں 20 سے زائد امریکی جنگی بحری جہاز بھی ان کارروائیوں میں معاونت کر رہے ہیں۔

سینٹ کام کے مطابق ’’رخ موڑنے‘‘ سے مراد ایران سے منسلک یا ایران جانے والی تجارتی جہاز رانی پر پابندیوں کا نفاذ ہے، جبکہ امریکی مؤقف کے مطابق آبنائے ہرمز غیر ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی غیر جانب دار تجارتی آمدورفت کے لیے کھلا ہے۔

امریکی افواج کے مطابق ناکہ بندی پر عمل درآمد کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں انتباہ، جہازوں کا رخ تبدیل کرانا، بعض جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنا اور اہلکاروں کی جانب سے بحری جہازوں پر سوار ہوکر کارروائی کرنا شامل ہے۔

دوسری جانب ایران امریکی مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔ پاسداران انقلاب سے منسلک فارسی خلیج آبنائے اتھارٹی نے بھی سینٹ کام کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق امریکی بیانات زمینی صورتحال تبدیل نہیں کرسکتے اور تہران کی شرائط پوری ہونے تک آبنائے بدستور بند ہے۔

یوں واشنگٹن اور تہران آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ آبنائے غیر ایرانی تجارتی آمدورفت کے لیے کھلا ہے جبکہ ایران اسے مکمل طور پر بند قرار دیتا ہے۔

ایران کی تیل برآمدات پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، کیونکہ تقریباً چار ماہ سے جاری بحری کارروائیوں کے ساتھ پہلے سے عائد امریکی پابندیاں بھی موجود ہیں۔ تاہم یہ دباؤ تہران کو مذاکرات کی طرف واپس لاتا ہے یا دونوں فریقوں کے درمیان تعطل مزید گہرا کرتا ہے، اس کا انحصار آئندہ پیش رفت پر ہوگا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔