نیپال اور تبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب، 165 افراد جاں بحق اور سینکڑوں لاپتہ

نیپال اور چین کے سرحدی علاقے تبت میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے تباہی مچ گئی، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 165 تک پہنچ گئی۔
نیپال پولیس کے مطابق اب تک 162 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ چین کے علاقے گئیرونگ میں 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ چینی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔
نیپال کی سیاحت کی وزارت نے بتایا ہے کہ اس آفت کے بعد سے 579 سیاح، جن میں 400 سے زائد غیر ملکی لاپتہ ہیں، جن میں 142 بھارتی، 34 آسٹریلوی اور امریکہ، برطانیہ، جنوبی کوریا، ملائیشیا، نیدرلینڈز، پرتگال اور جنوبی افریقہ کے شہری شامل ہیں۔
اس کے علاوہ نیپال کے 28 پولیس اہلکار بھی لاپتہ ہیں، جبکہ چینی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ تبت میں 558 افراد لاپتہ ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔
سوشل میڈیا اور سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیچڑ اور ملبے کا ایک بڑا سیلاؤ کئی منزلہ عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، جبکہ لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔
بوٹے کوشی اور تریشولی ندیوں کے راستے میں آنے والے قصبے اور دیہات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ کاٹھمنڈو سے ماحولیاتی کارکن پریاش ادھیکاری نے بتایا کہ اس سیلاب نے پورے کے پورے دیہات، اسکول اور اہم شاہراہیں صفہ ہستی سے مٹا دی ہیں۔
مقامی صحافیوں کے مطابق سیلاب سے قبل کوئی شدید بارش نہیں ہوئی تھی، جس کی وجہ سے لوگ مکمل طور پر بے خبر تھے اور اپنے گھروں میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں : قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ ایران کا دورہ کریں گے، ایرانی وزارت خارجہ
شدید متاثرہ پہاڑی ضلع راسووا میں پانی کا بہاؤ اتنا تیز اور اونچا ہے کہ ریسکیو ہیلی کاپٹروں کو لینڈنگ میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
نیپال الیکٹرسٹی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ پن بجلی اور سولر منصوبوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے 430 میگاواٹ بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے اور بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے۔
نیپال کے وزیر اعظم بالیندرا شاہ نے قوم سے اتحاد اور صبر کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ریسکیو، علاج اور خوراک کی فراہمی کی مکمل ذمہ داری لیتی ہے۔ انہوں نے ہنگامی اجلاس بلا کر آرمی، ریڈ کراس اور دیگر اداروں کو ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے بھی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تمام وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے اور خطرے سے پہلے خبردار کرنے والے نظام کو مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔
بین الاقوامی برادری نے بھی امداد کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نے 5 لاکھ ڈالر امداد کی فراہم کی ہے اور اقوام متحدہ نے اپنا عملہ متاثرہ علاقوں میں بھیج دیا ہے۔
جنوبی کوریا نے اپنے 8 لاپتہ شہریوں اور دیگر پھنسے ہوئے ورکرز کی تلاش کے لیے ہنگامی ٹاسک فورس قائم کر دی ہے اور تیز رفتار ریسکیو ٹیم نیپال بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مفاجاتی سیلاب برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے آیا ہے۔ لھیندے کھولا ندی میں برف اور چٹانوں کا تودہ گرنے سے پانی کا بہاؤ رک گیا اور بعد میں یکدم تیز ریلہ نیچے کی طرف بہہ نکلا۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق اس تباہی کے دوران زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جو دراصل برفانی تودے گرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی لہریں تھیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس خطے میں اس طرح کے شدید اور غیر متوقع واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












