جمعرات، 27-اگست،2026
جمعرات 1448/03/14هـ (27-08-2026م)

آبنائے ہرمز کھلنے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی

27 اگست, 2026 12:45

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو بھی کمی کا سلسلہ جاری رہا۔

سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ ایران اور قطر کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکتی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث تیل کی ترسیل میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں کم ہوسکتی ہیں۔

برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 41 سینٹ یعنی 0.5 فیصد کمی کے بعد 87.40 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 37 سینٹ یعنی 0.5 فیصد کمی کے بعد 81.80 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کررہا تھا۔

برینٹ کی قیمت میں مسلسل چوتھے روز جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں پانچویں روز کمی کا امکان ہے۔ دوسری جانب اماراتی مربن خام تیل کی قیمت 0.35 فیصد اضافے کے ساتھ 93.77 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

ایرانی ذرائع کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے انتظام اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم سے متعلق معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔ ایک روز قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بھی کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک نے اہم آبی گزرگاہ اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کے حوالے سے اتفاق کرلیا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل عالمی سطح پر استعمال ہونے والے تیل اور قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا تھا۔ تاہم ایران کی جانب سے آبنائے کو بند کرنے کی کوششوں کے بعد شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً ایک چوتھائی تک محدود ہوگئی ہے۔

اے این زیڈ کے سینئر کموڈیٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہائنز کے مطابق آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے امکانات بہتر ہونے سے خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا ہے، تاہم عالمی مارکیٹ میں سپلائی کی قلت کے خدشات اب بھی برقرار ہیں۔

ادھر قطر کے وزیراعظم جمعرات کو ایران کا دورہ کریں گے، جہاں تقریباً چھ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔ امریکا نے تقریباً ایک ماہ سے ایران کے خلاف حملے روک رکھے ہیں اور تہران پر مزید معاشی دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں کو خلیجی خطے میں توانائی کی ترسیل بہتر ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

تاہم فریقین کے مطالبات میں اب بھی نمایاں اختلاف موجود ہے۔ ایران نے خلیج اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جون میں طے پانے والے مگر بعد میں ختم ہونے والے عبوری جنگ بندی معاہدے کے تحت ملاقات ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق تنازع میں ایران کا جوہری پروگرام اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے اور اس کا فوری حل مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے اور خام تیل کی قیمتوں میں جنگی خطرات کے باعث اضافی پریمیم شامل رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ اور روس، یوکرین جنگ کے باعث عالمی ڈیزل مارکیٹ بھی دباؤ کا شکار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں متعدد ریفائنریوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ یوکرین کے حملوں کے نتیجے میں روس کی کئی ریفائنریوں کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی ڈیزل برآمدات میں کمی آئی ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 21 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکا میں ڈیزل اور ہیٹنگ آئل سمیت ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر 22 لاکھ بیرل کم ہوکر 10 کروڑ 34 لاکھ بیرل رہ گئے۔

اے این زیڈ کے ڈینیئل ہائنز کے مطابق یہ ذخائر سال کے اس وقت کے حساب سے اب تک کی کم ترین سطح پر ہیں، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے خدشات بدستور برقرار ہیں۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔