حکومت بلوچستان نے فتنہ الہندوستان کی 9 مطلوب دہشت گرد خواتین کے سر کی قیمت مقرر کر دی

حکومت بلوچستان نے فتنہ الہندوستان سے وابستہ انتہائی مطلوب 9 دہشت گرد خواتین کی گرفتاری اور نشاندہی میں مدد فراہم کرنے پر 10 سے 15 لاکھ روپے تک انعام کا اعلان کر دیا۔
حکومت بلوچستان نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے وابستہ انتہائی مطلوب 9 دہشت گرد خواتین کے سر کی قیمتیں مقرر کر دی ہیں۔
صوبائی حکومت نے ان خواتین سے متعلق مستند معلومات فراہم کرنے پر 10 سے 15 لاکھ روپے تک کے انعام کا اعلان کیا ہے۔
حکام کے مطابق مطلوب خواتین کی نشاندہی میں مدد دینے یا ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے شہریوں کی شناخت کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا تاکہ ان کی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ شہری ان خواتین کے بارے میں کوئی بھی اہم اطلاع حکومت بلوچستان کی جانب سے فراہم کردہ باقاعدہ رابطہ نمبرز پر دے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سیکورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائی، 11 دہشت گرد جہنم واصل
تحقیقات اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان انتہائی مطلوب خواتین کا تعلق بلوچستان کے ساحلی اور جنوبی علاقوں گوادر، جیونی اور تربت سے ہے۔ مطلوبہ خواتین کی فہرست میں حنیفاں بی بی، عائشہ، رقیہ، حفصہ، زہرہ، امینہ بانی، زرمین اور عزیزاں شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق مطلوبہ آٹھ خواتین حنیفاں بی بی، عائشہ، رقیہ، حفصہ، زہرہ، امینہ بانی اور زرمین کے سر کی قیمت 10، 10 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ انتہائی مطلوب خاتون عزیزاں کے سر کی قیمت 15 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام خواتین بلوچستان میں مسلسل امن دشمن اور ملک مخالف کارروائیوں میں براہ راست ملوث رہی ہیں اور علاقے کی سادہ لوح خواتین کو ورغلا کر اپنے ساتھ ملا رہی ہیں تاکہ بدامنی پھیلانے کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ صوبائی حکومت اور سیکیورٹی ادارے ان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










