نیپال اور تبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب کیسے آیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سامنے آگئی ہے۔ ابتدائی طور پر زلزلے سے جوڑا جانے والا یہ واقعہ دراصل گلیشیئر کے بڑے حصے کے ٹوٹ کر وادی میں گرنے کے باعث پیش آیا۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق گلیشیئر کے وادی کی تہہ سے ٹکرانے کا اثر اتنا شدید تھا کہ اسے محسوس کرنے والے افراد کو ایسا لگا جیسے 5.2 شدت کا زلزلہ آیا ہو۔ اس کے بعد بلند علاقے سے برف، چٹانوں اور ملبے کا ایک بڑا حصہ نیچے ندی میں جاگرا، جس کے نتیجے میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔
برف، مٹی، چٹانوں اور پانی پر مشتمل طاقتور ریلا تیزی سے نشیبی علاقوں کی جانب بڑھا۔ بعض مقامات پر صرف 30 منٹ کے دوران پانی کی سطح 7 سے 9 میٹر تک بلند ہوگئی، جبکہ کئی واٹر چینلز بھی تباہ ہوگئے۔
سیلاب کے باعث نیپال کے مختلف اضلاع شدید متاثر ہوئے، جن میں رسوا، نواکوٹ، دھادنگ، گورکھا اور چتوان شامل ہیں۔ قدرتی آفت سے سڑکوں، پلوں، بجلی کے نظام اور پن بجلی کے منصوبوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطے میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت، گلیشیئرز میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیاں، برفانی جھیلوں کا پھیلاؤ، مون سون بارشیں اور لینڈ سلائیڈنگ ایسے اچانک اور تباہ کن واقعات کے خطرے میں اضافہ کررہے ہیں۔
نیپال میں گزشتہ برس بھی اسی خطے میں برفانی جھیل پھٹنے کے بعد سیلاب آیا تھا، جس نے ہمالیائی علاقوں میں بڑھتے ہوئے قدرتی خطرات کی جانب ماہرین کی توجہ مزید مبذول کرائی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے قدرتی واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، تاہم مؤثر ارلی وارننگ سسٹم، سیٹلائٹ کے ذریعے مسلسل نگرانی اور سرحد پار معلومات کے فوری تبادلے سے جانی و مالی نقصان کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہمالیہ میں بدلتا موسم اور تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہے بلکہ نیپال، تبت اور پورے خطے میں لاکھوں افراد کے لیے براہ راست انسانی خطرہ بنتے جارہے ہیں۔
تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ خطرناک علاقوں میں نئی آبادیاں قائم ہونے سے روکنا اور پہلے سے موجود آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا مستقبل میں ایسی قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے مؤثر ترین اقدامات میں شامل ہوسکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











