ہفتہ، 29-اگست،2026
ہفتہ 1448/03/16هـ (29-08-2026م)

طالبان رجیم میں افغان معیشت کی تباہی، عام شہری شدید معاشی بحران کا شکار

29 اگست, 2026 11:13

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کو مسلسل معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ روزگار کے محدود مواقع اور کمزور معاشی سرگرمیوں نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

افغان تھنک ٹینک افغانستان اینالیٹس نیٹ ورک کے مطابق طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان معیشت کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے اور ملکی جی ڈی پی میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں روزگار کا بحران بدستور سنگین ہے اور لیبر مارکیٹ عوام کو مناسب اور مستحکم آمدنی کے مواقع فراہم کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ معاشی دباؤ کے باعث کئی خاندانوں کو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے سخت فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔

افغانستان اینالیٹس نیٹ ورک کے مطابق معاشی مشکلات کا اثر خواتین اور بچوں پر بھی نمایاں ہے، جہاں بعض افراد معمولی اجرت پر گھریلو کام کرنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ میں خواتین کی تعلیم اور روزگار سے متعلق پابندیوں کو بھی معاشی مواقع محدود ہونے کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔

تھنک ٹینک کے مطابق کئی افغان خاندان اپنی بقا کے لیے بچوں کی تعلیم، اپنے اثاثوں اور مستقبل سے متعلق منصوبوں پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث معاشی مشکلات کے طویل مدتی اثرات بھی سامنے آنے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے اوچا کی جانب سے بھی افغانستان میں انسانی اور معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں بڑی تعداد میں شہریوں کو غربت، بے روزگاری اور بنیادی ضروریات تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں پائیدار معاشی بہتری کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ، نجی شعبے کی سرگرمیوں کا فروغ اور خواتین سمیت تمام طبقات کی معاشی شمولیت ضروری ہے۔ معاشی بحران سے نمٹنے میں ناکامی عام افغان شہریوں کے مسائل کو مزید پیچیدہ کرسکتی ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔