عدالت کا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل میں ملاقات سمیت تمام سہولیات دینے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قید تنہائی سے متعلق درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے جیل میں ملاقات، طبی سہولیات اور بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کرانے کی ہدایات کر دیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل میں قید تنہائی کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عالیہ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے نصرت بھٹو کیس اور بیگم شمیم آفریدی کیس کے تاریخی فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کرائی جائے۔ اس کے علاوہ جیل قوانین کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی ان کے دیگر فیملی ممبران سے ملاقات بھی یقینی بنائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : یکم ستمبر 1965 کے شہدا کو قوم کا سلام، میجر رضا شاہ اور میجر شاہ نواز کی عظیم قربانی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں بانی پی ٹی آئی کی ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کروانے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔
عدالت عالیہ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو روزانہ کی بنیاد پر اخبارات اور مطالعے کے لیے کتابیں فراہم کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جیل قوانین کے طے شدہ ضوابط کے تحت تمام ضروری طبی سہولیات کی فراہمی کا حکم بھی دیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام درخواستوں کو ان ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو احکامات جاری کیے کہ وہ عدالتی ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
عدالت نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو خاص طور پر ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھا جائے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










