ہر بار نیا انتخاب کرنے کا موقع، لیکن نتیجہ وہی؛ آخر دماغ ایسا کیوں کرتا ہے؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ کچھ لوگ روزانہ ناشتے میں تقریباً ایک ہی چیز کھانا پسند کرتے ہیں؟
بعض افراد کے لیے یہ صرف ناشتہ نہیں ہوتا۔ ان کے دن کے کئی دوسرے معمولات بھی اسی طرح چلتے ہیں۔ وہ ایک ہی دکان سے خریداری کرتے ہیں۔ ایک ہی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ کئی معاملات میں وہ بار بار وہی فیصلہ کرتے ہیں، حالانکہ ان کے سامنے دوسرے اور شاید بہتر آپشن بھی موجود ہوتے ہیں۔
سائنسدان کافی عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انسان ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اب جرمنی میں ہونے والی ایک نئی تحقیق نے اس رویے کی ایک اہم وجہ سامنے لائی ہے۔ تحقیق کے مطابق ہمارا ماضی کا انتخاب مستقبل کے فیصلوں پر ہماری توقع سے کہیں زیادہ اثر ڈالتا ہے۔
یہ تحقیق جرمنی کی TU Dresden University کے محققین نے کی۔ سائنسدانوں نے 700 سے زائد افراد سے متعلق پہلے کیے گئے تحقیقی کام کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ اس کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ جب انسان کے سامنے کئی آپشن موجود ہوں تو وہ اکثر پہلے منتخب کیے گئے آپشن کو دوبارہ کیوں چنتا ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ انسان کا دماغ پچھلے فیصلوں کو آسانی سے نظر انداز نہیں کرتا۔ اگر کسی شخص نے ماضی میں کسی خاص صورتحال میں ایک آپشن منتخب کیا تھا تو مستقبل میں اسی طرح کی صورتحال آنے پر اس انتخاب کے دوبارہ ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
محققین کے مطابق یہ عمل صرف ایک بار نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ کسی خاص انتخاب کو بار بار دہرانا اسے ایک عادت میں تبدیل کر سکتا ہے۔ پھر انسان کے لیے وہی فیصلہ سب سے آسان اور مانوس راستہ بن جاتا ہے۔ اس وقت سامنے موجود دوسرے آپشنز بہتر بھی ہوں تو انسان پرانے انتخاب کو ترجیح دے سکتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کئی دن تک ناشتے میں ایک ہی غذا کھاتا ہے تو اگلے دن بھی اسی چیز کا انتخاب کرنا اس کے لیے آسان ہوتا ہے۔ اسے نئے آپشن کے بارے میں زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ماضی کا فیصلہ پہلے ہی اس کے ذہن میں موجود ہوتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ فیصلوں کی عادت انسانی رویے میں بہت مضبوط کردار ادا کرتی ہے۔ انسان ہمیشہ مکمل طور پر نئے سرے سے فیصلہ نہیں کرتا۔ کئی بار دماغ پچھلے تجربے کو بنیاد بناتا ہے اور اسی راستے پر آگے بڑھ جاتا ہے۔
یہ رجحان صرف کھانے پینے تک محدود نہیں۔ اس کا تعلق روزمرہ زندگی کے کئی معاملات سے ہو سکتا ہے۔ خریداری کرتے وقت ایک ہی برانڈ کا انتخاب کرنا، بار بار ایک ہی دکان سے سامان لینا یا روزانہ ایک ہی معمول پر عمل کرنا بھی اسی رویے کی مثالیں ہو سکتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان بعض اوقات یہ فیصلہ شعوری طور پر بھی نہیں کرتا۔ ماضی کا انتخاب اتنا مانوس ہو جاتا ہے کہ وہ خود بخود دوبارہ سامنے آ جاتا ہے۔ یوں ایک پرانی ترجیح مستقبل کے فیصلے کو متاثر کرتی رہتی ہے۔
محققین کے مطابق اس رویے کو صرف غلط فیصلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ماضی کے تجربات کئی مواقع پر انسان کو وقت بچانے اور فیصلہ کرنے میں مدد بھی دیتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب انسان پرانے انتخاب کو صرف عادت کی وجہ سے دہراتا رہے اور موجودہ صورتحال کو نظر انداز کر دے۔
یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے کہ انسان کے کئی روزمرہ رویے باہر سے عجیب یا غیر منطقی کیوں محسوس ہوتے ہیں۔ بظاہر ایک شخص کے پاس کئی بہتر راستے موجود ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ بار بار ایک ہی راستہ اختیار کرتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق ہمارے دماغ اور فیصلے کے درمیان یہ تعلق انسانی رویے کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ ماضی کے تجربات صرف یادیں نہیں ہوتے۔ وہ مستقبل میں ہماری پسند اور ترجیحات کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
تحقیق کے نتائج Communications Psychology نامی جرنل میں شائع ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نتائج انسانی عادات، خریداری کے فیصلوں اور روزمرہ کے معمولات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
یوں روزانہ ایک ہی ناشتہ کھانے جیسا معمولی فیصلہ بھی انسانی ذہن کے ایک دلچسپ عمل کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ ہم بہت سے فیصلے نئے سرے سے نہیں کرتے، بلکہ اپنے ماضی کے انتخاب کو دوبارہ دہراتے رہتے ہیں۔
Catch all the دلچسپ و عجیب News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










