گھڑی میں 12 ہندسے ہی کیوں ہوتے ہیں؟ 12 سب سے اوپر ہونے کی دلچسپ وجہ

اگر آپ سے پوچھا جائے کہ ایک دن کتنے گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے تو بلاشبہ جواب 24 گھنٹے ہوگا۔ لیکن دیوار پر لگی گھڑی پر نظر ڈالیں تو وہاں 24 کے بجائے صرف 12 ہندسے دائرے کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دو سوئیاں گھنٹے اور منٹ کی نشاندہی کرتی ہیں۔
گھڑی کا یہ ڈیزائن آج اتنا عام ہوچکا ہے کہ ہم شاذ ہی سوچتے ہیں کہ آخر وقت ناپنے کے لیے یہی ترتیب کیوں اختیار کی گئی اور گھڑی میں 12 کا ہندسہ ہمیشہ سب سے اوپر کیوں ہوتا ہے۔
اس کی تاریخ دراصل قدیم دور کے سن ڈائلز سے جڑی ہوئی ہے۔ مکینیکل گھڑیوں کی ایجاد سے پہلے سورج کی مدد سے وقت کا اندازہ لگانے کے لیے سن ڈائل استعمال کیے جاتے تھے۔ سورج کے مشرق سے مغرب کی جانب ظاہری سفر کے مطابق اس پر بنے نشانات وقت کی نشاندہی کرتے تھے۔
بعد میں جب مکینیکل گھڑیاں تیار ہوئیں تو ان کے ڈیزائن میں سن ڈائل کے وقت بتانے کے طریقے سے اثر لیا گیا۔ گھڑی کی سوئیوں کی گھڑی وار حرکت بھی اسی روایت سے منسلک سمجھی جاتی ہے، کیونکہ یہ شمالی نصف کرہ میں روایتی سن ڈائل پر سائے کی حرکت سے مطابقت رکھتی ہے۔
گھڑی کے ڈائل پر 12 ہندسوں کی موجودہ ترتیب بھی صدیوں پرانے نظام کا نتیجہ ہے۔ 14ویں صدی تک 12 حصوں پر مشتمل گھڑی کا ڈائل ایک معروف معیار بن چکا تھا اور بعد میں اس کی بنیادی شکل میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔
وقت کو 12 حصوں میں تقسیم کرنے کے پیچھے قدیم تہذیبوں کے ریاضیاتی نظام کا بھی اہم کردار تھا۔ قدیم بابلی تہذیب میں 60 پر مبنی نظامِ اعداد، یعنی سیکساجیسیمل نظام، استعمال کیا جاتا تھا۔ بعد میں قدیم یونانیوں نے دائرے کو تقسیم کرنے کے لیے اسی تصور سے فائدہ اٹھایا اور وقت کی تقسیم کے لیے 12 گھنٹوں کے نظام کو بھی فروغ ملا۔
قدیم ماہرِ فلکیات ہپارکس نے دائرے کو 360 ڈگری میں تقسیم کرنے کے تصور کو اپنایا، جبکہ دوسری صدی عیسوی میں بطلیموس نے ہر ڈگری کو مزید 60 حصوں میں تقسیم کیا۔ بعد میں زاویوں اور وقت کی پیمائش میں چھوٹی اکائیوں کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاحات سے موجودہ ’منٹ‘ کے تصور نے بھی جنم لیا۔
اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ گھڑی میں 12 کا ہندسہ سب سے اوپر ہی کیوں ہوتا ہے؟
اس کی ایک اہم وجہ روایتی سن ڈائل کا ڈیزائن ہے۔ دن کے درمیانی حصے میں، یعنی تقریباً دوپہر کے وقت، سورج آسمان میں اپنی بلند ترین پوزیشن پر ہوتا ہے اور سن ڈائل پر سایہ اپنی مختصر ترین حالت میں ہوتا ہے۔ وقت بتانے کے اس روایتی طریقے میں دوپہر کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، جس کا اثر بعد میں مکینیکل گھڑیوں کے ڈائل پر بھی برقرار رہا۔
یوں آج دیوار پر نظر آنے والی عام 12 ہندسوں والی گھڑی دراصل قدیم فلکیاتی مشاہدات، ریاضیاتی نظام اور صدیوں پرانے وقت ناپنے کے طریقوں کا مجموعہ ہے۔ ہم روزانہ جس ڈیزائن کو معمولی سمجھ کر دیکھتے ہیں، اس کے پیچھے انسانی تہذیب کی طویل سائنسی اور تاریخی روایت موجود ہے۔
Catch all the دلچسپ و عجیب News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












