ٹیکس چوروں کی جنت، امریکہ اور برطانیہ میں چھپی عالمی دولت سے متعلق انکشافات

دنیا کی مجموعی جی ڈی پی کا ایک تہائی حصہ یعنی 26 ٹریلین ڈالر آف شور اکاؤنٹس میں چھپا ہوا ہے، جس کا سب سے بڑا مرکز امریکہ اور برطانیہ ہیں۔ اس نظام کے ذریعے عالمی اشرافیہ سالانہ اربوں ڈالر کا ٹیکس چوری کر رہی ہے۔
عالمی مالیاتی نظام میں ایک ایسا خفیہ نیٹ ورک موجود ہے، جو دنیا بھر کی دولت کو ہڑپ کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 26 ٹریلین ڈالر، جو کہ عالمی معیشت کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے، دنیا بھر کے آف شور اکاؤنٹس میں جمع ہیں۔
اس بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کی وجہ سے حکومتوں کو سالانہ 480 ارب ڈالر کے ریونیو کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ رقم دنیا کے امیر ترین افراد، کثیر القومی کمپنیوں اور طاقتور اشرافیہ کی ہے، جو بغیر کسی ٹیکس کے ان اکاؤنٹس میں محفوظ ہے۔
حیرت انگیز طور پر اس پورے نظام کے معمار امریکہ اور برطانیہ ہیں، جنہوں نے جان بوجھ کر اس ڈھانچے کو وسعت دی ہے۔
آف شور نظام کا آغاز 1896 میں کیلیفورنیا کے ساحلوں سے تیل نکالنے کے ساتھ ہوا تھا، لیکن جدید دور میں اس نے ایک پیچیدہ مالیاتی شکل اختیار کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی ایران کے بعد کیوبا پر نظریں، امریکہ کے جاسوس ڈرونز کی پروازوں میں اضافہ
اس نظام میں شیل کمپنیاں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، جن کا کاغذات پر تو وجود ہوتا ہے لیکن ان کی کوئی حقیقی سرگرمی نہیں ہوتی۔
دولت مند افراد اپنی رقم کو ایسی جگہوں پر منتقل کرتے ہیں، جہاں ٹیکس کم اور رازداری کے سخت قوانین ہوں۔ لندن اس مکڑی کے جال کا مرکز ہے، جہاں جرسی، گرنزی اور آئل آف مین جیسی برطانوی ریاستیں کھربوں ڈالر لندن منتقل کرتی ہیں۔ اکیلے برطانوی جزائر 11 ٹریلین ڈالر سے زائد کے اثاثوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ اب مالیاتی رازداری فراہم کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ واشنگٹن اگرچہ دوسرے ممالک سے اپنے شہریوں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگتا ہے، لیکن وہ خود امریکہ میں موجود غیر ملکیوں کے اکاؤنٹس کی معلومات شیئر کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔
ڈیلویئر، وائیومنگ اور نیواڈا جیسی امریکی ریاستیں ٹیکس چوری کے لیے محفوظ ترین پناہ گاہیں بن چکی ہیں۔ دنیا کی صرف صفر اعشاریہ ایک فیصد آبادی ان اثاثوں کی مالک ہے۔ جب تک امریکہ اور برطانیہ اپنے قوانین کی خامیاں دور نہیں کرتے، دنیا کی دولت اسی طرح اینگلو سیکسن تجوریوں میں غائب ہوتی رہے گی۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












