اسٹیٹ بینک 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے پرغورکررہا ہے، ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 10 روپے کے کرنسی نوٹ کے مستقبل کے حوالے سے اہم پیش رفت سے آگاہ کردیا ہے۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ نئے کرنسی نوٹ جاری ہونے کے بعد 10 روپے کا موجودہ نوٹ ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں نئے کرنسی نوٹوں کے معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈاکٹر عنایت حسین نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک ماضی میں بھی دو مرتبہ 10 روپے کے نوٹ کو ختم کرنے کی کوشش کرچکا ہے۔ تاہم اب اس معاملے پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے۔
ڈپٹی گورنر کے مطابق 10 روپے کے نوٹ کی تیاری پر آنے والی لاگت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اسی وجہ سے اسے ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اگر نئے کرنسی نوٹ جاری کیے گئے تو اس وقت 10 روپے کا نوٹ نئے ڈیزائن میں شامل نہیں ہوگا۔
اجلاس میں کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن اور سکیورٹی فیچرز پر بھی بات ہوئی۔ اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق موجودہ کرنسی نوٹوں کی سیریز کی چھپائی 2005 میں شروع ہوئی تھی۔ اب نئے اور جدید سکیورٹی فیچرز کے ساتھ کرنسی نوٹ متعارف کروانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
حکام نے بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں کا معاملہ کابینہ میں دو مرتبہ زیر بحث آچکا ہے۔ کابینہ نے اس حوالے سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی نے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن میں بعض تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔ حتمی منظوری کے بعد نئے نوٹ مارکیٹ میں لائے جاسکیں گے۔
اجلاس کے دوران سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے تمام کرنسی نوٹ تبدیل کرنے کی بات کی تھی۔ انہوں نے نئے ڈیزائن کی تیاری کے عمل پر بھی وضاحت طلب کی۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سوال اٹھایا کہ جس کنسلٹنٹ کو مقرر کیا گیا تھا، اسی سے کرنسی نوٹ کا ڈیزائن تیار کروانے کا معاہدہ کیوں کیا گیا۔ اس معاملے میں باقاعدہ بڈنگ کا عمل نہیں ہوا۔
اس پر اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے وضاحت دی کہ جس کمپنی سے کنسلٹنٹ وابستہ ہے، وہی کمپنی ڈیزائن سے متعلق کام کرے گی۔ تاہم قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے اس معاملے میں قواعد کی پابندی کو ضروری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک ایک خودمختار ادارہ ہے لیکن اسے بھی مقررہ قواعد پر عمل کرنا چاہیے۔
اجلاس میں جعلی کرنسی کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ پاکستان میں جعلی کرنسی کی گردش کم ہے۔ اس پر کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ اگر جعلی نوٹوں کی شرح کم ہے تو اس حوالے سے اعداد و شمار بھی فراہم کیے جائیں۔
نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن پر بھی ارکان کی مختلف آرا سامنے آئیں۔ ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ نوٹوں کے ڈیزائن کو عوامی پسندیدگی کے پہلو سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ کرنسی نوٹ جیسا بھی ہو، عوام اسے استعمال کرتے ہیں۔ سینیٹر شاہزیب درانی نے بھی کہا کہ کرنسی کے معاملے میں پسند اور ناپسند بنیادی چیز نہیں۔
اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں کا معاملہ اس وقت کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے جائزے میں ہے۔ کابینہ کی جانب سے نئے نوٹوں کے حوالے سے کئی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے مکمل ہونے کے بعد ہی نئے نوٹ مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ ہوگا۔
ڈپٹی گورنر نے مزید بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن تقریباً ایک سال سے وزارت خزانہ کے پاس موجود ہیں۔ اس دوران مختلف سطحوں پر ان کا جائزہ لیا گیا ہے۔ حتمی منظوری اور ضروری مراحل مکمل ہونے کے بعد نئے نوٹوں کی طباعت اور اجرا کا عمل آگے بڑھ سکے گا۔
10 روپے کے نوٹ کے حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے موجودہ 10 روپے کے نوٹ کے فوری طور پر بند ہونے کی بات قبل از وقت ہوگی۔ اصل فیصلہ نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا اور متعلقہ منظوریوں کے بعد سامنے آئے گا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











