بدھ، 2-ستمبر،2026
منگل 1448/03/19هـ (01-09-2026م)

کینیڈین گاڑیوں پر 50 فیصد ٹیرف، ٹویوٹا اور ہونڈا کو بڑا چیلنج درپیش

01 ستمبر, 2026 12:15

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں پر مجوزہ 50 فیصد ٹیرف جاپانی کار ساز کمپنیوں ٹویوٹا اور ہونڈا کے لیے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مجوزہ ڈیوٹی نافذ ہوئی تو دونوں جاپانی کمپنیوں کو کینیڈا میں اپنی بعض اسمبلی لائنیں بند کرنے پر مجبور ہونا پڑسکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹویوٹا اور ہونڈا کینیڈا میں تیار ہونے والی مجموعی گاڑیوں میں تین چوتھائی سے زیادہ حصہ رکھتی ہیں۔

مجوزہ ٹیرف یکم جنوری سے نافذ ہونے کی صورت میں امریکی مارکیٹ کے لیے کینیڈا میں تیار کی جانے والی گاڑیوں کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ سال کینیڈا میں تیار ہونے والی گاڑیاں ہونڈا کی امریکی فروخت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ تھیں۔

اسی طرح کینیڈا میں تیار ہونے والی گاڑیاں ٹویوٹا کی امریکی فروخت کا تقریباً 17 فیصد حصہ تھیں، جو بڑی عالمی کار ساز کمپنیوں میں نمایاں تناسب ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مجوزہ اقدام موجودہ 25 فیصد ٹیرف کو دگنا کردے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اضافے سے کینیڈا میں گاڑیوں کی پیداوار کی معاشی افادیت شدید متاثر ہوسکتی ہے۔

آٹو انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کے مطابق اگر مقصد کینیڈا کی آٹو انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچانا ہے تو مجوزہ ٹیرف اس مقصد کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹویوٹا اور ہونڈا کو اضافی لاگت سے بچنے کے لیے اپنی کچھ کینیڈین اسمبلی لائنیں بند کرنے پر غور کرنا پڑسکتا ہے۔

امریکہ دونوں جاپانی کمپنیوں کے لیے سب سے اہم مارکیٹ ہے، جبکہ چینی کمپنی BYD سمیت بعض حریف اداروں کو امریکی مارکیٹ میں اس وقت محدود یا کوئی رسائی حاصل نہیں ہے۔

تاہم جاپانی کار ساز اداروں کو جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکہ میں کم قیمت چینی الیکٹرک گاڑیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے مقابلے کا بھی سامنا ہے۔

کینیڈا کی آٹو انڈسٹری سالانہ تقریباً 1.2 ملین گاڑیاں تیار کرتی ہے، جبکہ یہ صنعت بالواسطہ طور پر تقریباً 4 لاکھ 27 ہزار ملازمتوں کو سپورٹ کرتی ہے۔

ٹویوٹا کینیڈا سے امریکہ کو RAV4 ماڈل برآمد کرتی ہے، جبکہ ہونڈا کینیڈا سے CR-V ماڈل امریکی مارکیٹ میں بھیجتی ہے۔

RAV4 اور CR-V دونوں امریکی مارکیٹ میں مقبول ترین اسپورٹس یوٹیلیٹی گاڑیوں میں شمار ہوتی ہیں۔

ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں نے عالمی آٹو انڈسٹری کی سپلائی چینز اور پیداواری منصوبہ بندی پر بھی اثر ڈالا ہے۔ شمالی امریکہ میں کئی دہائیوں سے امریکی، یورپی، جاپانی اور جنوبی کوریائی کمپنیوں نے سرحد پار پیداواری نظام قائم کر رکھا ہے۔

ٹویوٹا کو امریکی ٹیرف کے باعث پہلے ہی بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کمپنی کے مطابق گزشتہ مالی سال میں امریکی ٹیرف کی وجہ سے اسے تقریباً 1.4 ٹریلین ین، یعنی 8.8 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

کمپنی اب امریکہ میں اپنی پیداوار بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ ٹویوٹا نے گزشتہ سال اگلے پانچ برسوں کے دوران امریکہ میں 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کا ہدف ظاہر کیا تھا۔

اس سرمایہ کاری کے منصوبے میں ٹیکساس میں 3.6 ارب ڈالر کی نئی گاڑیوں کی فیکٹری بھی شامل ہے۔ کمپنی کی امریکی پیداوار میں اضافے کی حکمت عملی کا مقصد تجارتی پالیسیوں کے اثرات کو کم کرنا بھی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور کینیڈا کے درمیان کوئی نیا تجارتی معاہدہ طے نہ پایا اور مجوزہ 50 فیصد ٹیرف نافذ ہوگیا تو ٹویوٹا اور ہونڈا کو اپنی کینیڈین پیداوار اور سپلائی چین کے منصوبوں پر نظرثانی کرنا پڑسکتی ہے۔

ممکنہ ٹیرف کے نتیجے میں دونوں کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ کو گاڑیاں فراہم کرنے کی اپنی موجودہ حکمت عملی میں بھی بڑی تبدیلیاں کرنا پڑسکتی ہیں۔ اس صورتحال کا اثر کینیڈا کی آٹو انڈسٹری، روزگار اور شمالی امریکہ کے مجموعی پیداواری نظام پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔