بلڈ شوگر جیسے مرض سے بچانے میں مددگار آسان ترین طریقہ سامنے آگیا

ذیابیطس دنیا بھر میں تیزی سے بڑھنے والے دائمی امراض میں شامل ہے۔ اس بیماری میں خون میں شکر کی مقدار معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ ذیابیطس کی کئی اقسام ہیں، تاہم ٹائپ 2 ذیابیطس سب سے عام ہے۔ زیادہ تر مریض اسی قسم کا سامنا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کھانا کھانے کے بعد بلڈ شوگر میں قدرتی طور پر اضافہ ہوتا ہے۔ عام طور پر کھانے کے 60 سے 90 منٹ بعد خون میں گلوکوز کی سطح زیادہ ہوسکتی ہے۔ اگر بلڈ شوگر بار بار زیادہ رہے تو وقت کے ساتھ خون کی شریانوں اور جسم کے مختلف حصوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
ایک نئی تحقیق میں کھانے کے بعد ہلکی جسمانی سرگرمی کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق کھانے کے بعد کچھ دیر چہل قدمی کرنا بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سے خاص طور پر ان افراد کو فائدہ ہوسکتا ہے جو کھانے کے بعد زیادہ دیر تک بیٹھے رہتے ہیں۔
جرنل Complementary Therapies in Medicine میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 31 سابقہ تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا۔ ان تحقیقات میں مجموعی طور پر 573 افراد شامل تھے۔ ان میں صحت مند افراد کے ساتھ ٹائپ 2 ذیابیطس اور بلند بلڈ شوگر والے افراد بھی شامل تھے۔
محققین نے مختلف جسمانی سرگرمیوں کے اثرات کا جائزہ لیا۔ ان سرگرمیوں میں چہل قدمی، سائیکل چلانا، یوگا اور دیگر ہلکی ورزشیں شامل تھیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ کھانے کے بعد مکمل طور پر بیٹھنے کے بجائے مختصر جسمانی سرگرمی کرنا بلڈ گلوکوز اور انسولین کے ردعمل کے لیے زیادہ بہتر ہوسکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ہر 30 منٹ بعد کچھ دیر کے لیے اٹھنا اور حرکت کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہر گھنٹے بعد صرف چند لمحوں کے لیے کھڑے ہونے سے بلڈ شوگر پر نمایاں فائدہ نہیں دیکھا گیا۔
محققین کے مطابق کھانے کے بعد 30 منٹ کے اندر ہلکی چہل قدمی کرنا بلڈ شوگر کو بہتر انداز میں قابو کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی سخت ورزش کی جائے۔ معمول کی رفتار سے تھوڑی دیر چلنا بھی جسمانی سرگرمی میں شمار ہوتا ہے۔
اس سے قبل 2023 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بھی کھانے کے بعد مختصر واک کے فوائد کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس تحقیق کے مطابق کھانے کے بعد 2 سے 5 منٹ تک چہل قدمی کرنے سے بلڈ شوگر کو کم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یعنی فائدہ حاصل کرنے کے لیے طویل ورزش لازمی نہیں۔
تحقیق میں کھانے کے بعد کھڑے ہونے اور چلنے کے اثرات کا بھی موازنہ کیا گیا۔ نتائج کے مطابق کھانے کے بعد کچھ دیر کھڑے رہنا مسلسل بیٹھے رہنے سے بہتر ہوسکتا ہے۔ تاہم ہلکی چہل قدمی کے نتائج زیادہ نمایاں رہے۔
محققین کے مطابق کھانے کے بعد کھڑے ہونے سے بلڈ گلوکوز کی سطح میں اوسطاً 9.51 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ہلکی چہل قدمی کے دوران یہ کمی اوسطاً 17.01 فیصد تک رہی۔ واک بلڈ شوگر کے ساتھ انسولین کے ردعمل پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جسمانی سرگرمی کے دوران مسلز گلوکوز کو توانائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس عمل سے خون میں موجود گلوکوز کی مقدار کم ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کھانے کے بعد کچھ دیر چلنے کو طویل عرصے تک بیٹھے رہنے کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











