اتوار، 12-جولائی،2026
اتوار 1448/01/27هـ (12-07-2026م)

سانحہ زیارت: حکومتی وفد اور دھرنا کمیٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور رات گئے ختم، ڈیڈ لاک برقرار

12 جولائی, 2026 09:28

کوئٹہ میں سانحہ زیارت کے لواحقین، آل پارٹیز اور دھرنا کمیٹی کے درمیان حکومتی وفد کے مذاکرات کا دوسرا دور رات گئے کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا اور دونوں فریقین میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی قیادت میں حکومتی وفد نے سانحہ زیارت کے شہداء کے لواحقین اور دھرنا شرکاء سے دھرنے کے مقام پر ملاقات کی۔

وفد میں سینیٹر منظور احمد کاکڑ، بلال کاکڑ اور کمشنر کوئٹہ شاہزیب خان بھی شامل تھے۔ حکومت کی جانب سے وفد نے سانحہ زیارت پر جوڈیشنل کمیشن بنانے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ حکومت بات چیت پر یقین رکھتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف بلوچستان کے مختلف اضلاع میں آپریشن جاری ہے۔

دوسری طرف آل پارٹیز کی جانب سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رحیم زیارتوال، نصراللہ زیرے، اصغر خان اچکزئی، آغا حسن اور دیگر رہنماؤں نے لواحقین کے مطالبات پیش کیے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا سولر پینلز درآمد کرنے والا ملک بن گیا، نئی رپورٹ میں اہم انکشافات

ان مطالبات میں زیارت کے واقعے پر جوڈیشنل کمیشن کے قیام، قلعہ سیف اللہ، کوئٹہ، زیارت اور ہنہ سمیت تمام علاقوں سے مسلح افراد کا خاتمہ، لیویز فورس کی فوری بحالی اور شہر کے بیچ و بیچ قائم ایف سی چیک پوسٹوں کے خاتمے کا مطالبہ شامل ہے۔

رحیم زیارتوال نے کہا کہ ایف سی چیک پوسٹوں پر شہر کے اندر شہریوں کو بار بار روک کر تنگ کیا جاتا ہے اور وزیراعلیٰ کے پاس ایف سی کو ہٹانے کے اختیارات ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ دھرنے کو زبردستی ختم کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور یہ تب تک جاری رہے گا، جب تک مطالبات تحریری طور پر بلیک اینڈ وائٹ میں تسلیم نہیں کیے جاتے۔

مذاکرات کا دوسرا دور بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے بعد دھرنا کمیٹی کے قائدین واپس دھرنے کے مقام پر روانہ ہو گئے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔