پیر، 13-جولائی،2026
پیر 1448/01/28هـ (13-07-2026م)

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ گرانے کا حکم کالعدم قرار دے دیا

13 جولائی, 2026 11:36

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے مشہور مونال ریسٹورنٹ کو گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انتظامی معاملات ریگولیٹری باڈیز اور ملکیت کا فیصلہ ٹرائل کورٹس کے سپرد کر دیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے ایک بڑا اور اہم فیصلہ سناتے ہوئے پیرسوہاہ مونال ریسٹورنٹ کو گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

عدالت نے اس سلسلے میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور میٹرو پولیٹن سٹی کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ریسٹورنٹ گرانے کا حکم امتناعی بھی مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے میں بہت سے اہم قانونی نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کیس دائر کرنے اور اس پر نظرثانی کی درخواستیں لانے پر بھی شدید غصے کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں : وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کے حوالے سے سپریم کورٹ کے پرانے احکامات واپس لے لیئے

جسٹس حسن اظہر رضوی نے واضح الفاظ میں کہا کہ فیصلے میں وہ کچھ لکھا گیا، جس کا فسانہ میں کوئی ذکر ہی نہ تھا اور ہم نے کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرنا۔

سماعت کے دوران جب وکیل احسن بھون نے کہا کہ عدالت نے کیس کو بہت اچھا پڑھا ہے، تو جسٹس حسن اظہر رضوی نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کریں، جو سماعت ہوئی ہے وہی حکم دیں گے اور ہم فیصلے میں الف لیلیٰ کی کہانی نہیں لکھیں گے۔

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ فیصلہ پڑھا تو اندازہ ہوا کہ بہت کچھ عدالتی کارروائی سے باہر کا لکھا گیا تھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ریسٹورنٹ کی ملکیت کا فیصلہ ٹرائل کورٹس بغیر کسی عدالتی ابزرویشن سے متاثر ہوئے آزادانہ طور پر کریں گی اور ٹرائل کورٹس کو جلد از جلد ان مقدمات کے فیصلے کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ ریسٹورنٹ کے تمام انتظامی معاملات کا فیصلہ ریگولیٹری باڈیز خود کریں گی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔