بدھ، 15-جولائی،2026
بدھ 1448/02/01هـ (15-07-2026م)

گلیشیئرز میں تیز تبدیلی خطرے کی گھنٹی، اسپارکو نے سیلاب اور پانی کی قلت سے خبردار کردیا

15 جولائی, 2026 11:25

پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے اسپارکو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مطیع اللہ حق نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے گلیشیئرز میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں مستقبل میں سنگین ماحولیاتی مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔

 اسپارکو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مطیع اللہ حق کے مطابق گلیشیئرز کا معمول سے زیادہ تیزی سے پگھلنا یا غیر معمولی انداز میں آگے بڑھنا، دونوں صورتیں انسانی آبادی، بنیادی ڈھانچے اور آبی وسائل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹر مطیع اللہ حق نے کہا کہ گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث برفانی جھیلیں وجود میں آتی ہیں۔ جب ان جھیلوں کے کنارے ٹوٹتے ہیں تو اچانک شدید سیلاب آ جاتا ہے۔ ایسے سیلاب راستے میں آنے والے دیہات، سڑکوں، پلوں اور دیگر اہم تنصیبات کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اور کئی علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ مثال کے طور پر شِشپر گلیشیئر کے آگے بڑھنے سے پانی کا قدرتی راستہ بند ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک بڑی جھیل بن گئی۔ بعد ازاں یہ جھیل دو مرتبہ پھٹ گئی، جس سے قراقرم ہائی وے سمیت آس پاس کے کئی علاقوں کو نقصان پہنچا اور مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈاکٹر مطیع اللہ حق کے مطابق پاکستان کے دریاؤں میں بہنے والے پانی کا تقریباً 70 فیصد حصہ گلیشیئرز سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر گلیشیئرز تیزی سے پگھلتے رہے تو ابتدائی برسوں میں دریاؤں میں پانی کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جس سے سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگا۔ تاہم مستقبل میں جب گلیشیئرز کا حجم کم ہو جائے گا تو دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بھی نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے، جس سے ملک کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی بڑی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلی، عالمی حدت، فضائی آلودگی اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی شامل ہیں۔ فضا میں موجود بلیک کاربن برف کی سطح پر جمع ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کی حرارت زیادہ جذب ہوتی ہے اور برف کے پگھلنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔

اسپارکو کے ڈائریکٹر نے واضح کیا کہ اگرچہ سیاحت کو مکمل طور پر اس صورتحال کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن گلیشیئرز والے علاقوں میں صفائی اور ماحول کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ فضائی آلودگی صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہتی بلکہ ہواؤں کے ذریعے دور دراز علاقوں سے بھی گلیشیئرز تک پہنچ کر ان پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے بڑے پیمانے پر شجرکاری، جنگلات کے تحفظ اور نئے درخت لگانے کی ضرورت پر زور دیا۔ درخت فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، جس سے ماحول صاف رہتا ہے اور گلوبل وارمنگ کے اثرات کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں پاکستان کو سیلاب، پانی کی قلت اور ماحولیاتی بحران جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔