پیر، 3-اگست،2026
پیر 1448/02/20هـ (03-08-2026م)

کراچی: نوجوان میر رضا علی کی موت کی تحقیقات میں اہم پیش رفت

03 اگست, 2026 15:26

کراچی: نوجوان میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے متعدد نئے شواہد کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تفتیشی حکام کو میر رضا علی کا موبائل فون ریکارڈ موصول ہو گیا ہے، جس کا فرانزک تجزیہ اور کال ڈیٹا ریکارڈ (CDR) کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تفتیشی ٹیم آخری دو سے تین روز کے دوران ہونے والے تمام رابطوں کی بھی جانچ کر رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا علی کے قرض دہندگان کی فہرست بھی مرتب کر لی گئی ہے اور قرضوں، مالی معاملات سمیت تمام ممکنہ پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

تحقیقات کے دوران اب تک ایک درجن سے زائد افراد کو شاملِ تفتیش کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف شواہد اور بیانات کا تقابلی جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے میر رضا علی کی منگیتر کا بیان بھی قلمبند کر لیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق 28 جولائی کی رات ساڑھے 11 بجے تک میر رضا علی کا اپنی منگیتر سے رابطہ رہا، جبکہ رات تقریباً 3 بجے منگیتر نے دوبارہ متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منگیتر کی جانب سے تقریباً 20 منٹ کے دوران 40 سے زائد کالز اور پیغامات کیے گئے، تاہم میر رضا علی نے کسی کال یا پیغام کا جواب نہیں دیا۔

تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ میر رضا علی نے گھر سے نکلنے سے قبل اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس حذف کر دیے تھے، جبکہ اپنے والد کے اکاؤنٹ میں ڈھائی لاکھ روپے بھی منتقل کیے تھے۔

ذرائع کے مطابق میر رضا علی اپنی دکان کے سکیورٹی گارڈ کا 30 بور پستول ساتھ لے کر گھر سے نکلے تھے۔ جائے وقوعہ سے پستول کا ہولسٹر تو برآمد ہو گیا ہے، تاہم اسلحہ تاحال نہیں مل سکا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم تمام ڈیجیٹل، مالی اور فرانزک شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔