ہفتہ، 15-اگست،2026
ہفتہ 1448/03/02هـ (15-08-2026م)

مہنگی بجلی سے پریشان پاکستانیوں کا سولر کی جانب رخ، ماہانہ ہزاروں روپے کی بچت

12 اگست, 2026 13:40

پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے باعث گھریلو صارفین کی بڑی تعداد روایتی گرڈ پر انحصار کم کرتے ہوئے سولر انرجی اور بیٹری اسٹوریج سسٹمز کی جانب منتقل ہورہی ہے۔

بعض اندازوں کے مطابق 10 کلوواٹ کا سولر سسٹم استعمال کرنے والے گھرانے بجلی کے بل میں ماہانہ دسیوں ہزار روپے تک کی بچت کرسکتے ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایک عام 10 کلوواٹ کا روف ٹاپ سولر سسٹم مقام اور موسمی حالات کے لحاظ سے ماہانہ تقریباً 1,200 سے 1,500 یونٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے۔ اس پیداوار سے ایسے صارفین کو نمایاں فائدہ حاصل ہوسکتا ہے جو زیادہ ٹیرف پر بجلی استعمال کرتے ہیں۔

سولر سسٹم کے ذریعے گھر کی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے علاوہ اضافی پیداوار کو گرڈ میں منتقل کرکے مالی فائدہ حاصل کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی گھرانہ ماہانہ 1,200 یونٹ بجلی استعمال کرتا ہے اور سولر سسٹم 1,400 یونٹ پیدا کرتا ہے تو اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کی جاسکتی ہے، تاہم حقیقی مالی فائدہ موجودہ نیٹ میٹرنگ یا نیٹ بلنگ کے قواعد اور متعلقہ ٹیرف پر منحصر ہوگا۔

10 کلوواٹ سولر سسٹم کی ابتدائی لاگت پینلز، انورٹر، دیگر آلات اور تنصیب کے معیار کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔ مارکیٹ میں اس نوعیت کے نظام کی قیمت تقریباً 15 لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک بتائی جاتی ہے۔

صنعتی ماہرین کے مطابق سولر سسٹم کی طویل مدت تک کارکردگی اور بجلی کے نرخوں میں ممکنہ اضافے کے باعث صارفین کئی برسوں کے دوران قابل ذکر مالی بچت حاصل کرسکتے ہیں۔ تاہم اصل بچت کا انحصار سسٹم کی پیداوار، گھر کی بجلی کی کھپت، ٹیرف، دیکھ بھال اور حکومتی پالیسی پر ہوگا۔

پاکستان میں سولر کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر 14 سے 16 کلو واٹ آورز کی بیٹریاں ایسے صارفین میں مقبول ہورہی ہیں جو لوڈشیڈنگ کے دوران بیک اپ چاہتے ہیں یا دن میں پیدا ہونے والی شمسی بجلی کو رات کے وقت استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

ملک میں سولر اپنانے کے رجحان میں اضافے کی بڑی وجوہات بجلی کے بلند نرخ اور سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہیں۔ اسی باعث گزشتہ چند برسوں میں روف ٹاپ سولر اور نیٹ میٹرنگ کی تنصیبات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

سولر سسٹمز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے قومی گرڈ کے لیے نئے تکنیکی اور مالی چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔ خاص طور پر ایسے اوقات میں جب شمسی پیداوار زیادہ اور مجموعی طلب کم ہوتی ہے، بجلی کے نظام میں طلب اور رسد کے توازن کو برقرار رکھنا ایک اہم مسئلہ بن جاتا ہے۔

گرڈ پر اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث حکومت اور ریگولیٹرز کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے موجودہ طریقہ کار میں تبدیلیوں اور نیٹ بلنگ جیسے متبادل نظام پر غور کیا جارہا ہے۔ مستقبل میں بجلی کی خرید و فروخت کے نرخ اور قواعد میں تبدیلیاں سولر صارفین کی سرمایہ کاری اور ماہانہ بچت پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

اس کے باوجود پاکستان میں سولر اور بیٹری اسٹوریج کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صارفین مہنگی بجلی کے متبادل تلاش کررہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گرڈ کے استحکام اور صارفین کے مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے واضح اور مستقل توانائی پالیسی سولر شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔