انٹارکٹیکا کے 250 سال قدیم پُراسرار سوراخ کا معمہ بالآخر حل ہوگیا

انٹارکٹیکا کی برف سے ڈھکے سمندر میں ایک ایسا پراسرار علاقہ موجود ہے جہاں بعض اوقات برف ہٹ جاتی ہے اور کھلا پانی نظر آنے لگتا ہے۔ اسے ماؤڈ رائز پولینیا کہا جاتا ہے۔ نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے اس علاقے کی گزشتہ 250 سال کی تاریخ کا جائزہ لیا ہے۔
تحقیق کے مطابق ماؤڈ رائز پولینیا ماضی میں کئی مرتبہ بن چکا ہے۔ اس کے بڑے واقعات باقاعدہ وقفے سے نہیں ہوئے۔ بعض ادوار میں یہ سرگرمی کئی سال تک ایک دوسرے کے قریب بھی دیکھی گئی۔ سائنس دانوں نے اس کے ماضی کو جاننے کیلئے انٹارکٹیکا سے حاصل کیے گئے برفانی نمونے کا تجزیہ کیا۔
یہ تحقیق بھارت کے نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشن ریسرچ کے سائنس دانوں نے ڈنمارک اور ناروے کے ماہرین کے تعاون سے کی۔ محققین نے مشرقی انٹارکٹیکا کے ڈروننگ موڈ لینڈ میں واقع ڈیوجپرانن آئس رائز سے 122 میٹر طویل آئس کور حاصل کیا۔ اس برفانی کور کو مختلف کیمیائی اور آئسوٹوپ ریکارڈز کے ذریعے جانچا گیا۔
برف کی تہوں میں ماضی کے ماحول کے کئی اشارے محفوظ رہتے ہیں۔ سائنس دان ان تہوں میں موجود کیمیائی مادوں اور دیگر نشانات کا جائزہ لے کر پرانے موسمی اور سمندری حالات کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ اس تحقیق میں اسی طریقے کی مدد سے پولینیا کی سرگرمی کا ریکارڈ 1774 تک پیچھے لے جایا گیا۔
پولینیا کیا ہوتا ہے؟
پولینیا سمندر میں موجود کھلے پانی کا ایسا حصہ ہوتا ہے جو عام طور پر اردگرد موجود سمندری برف کے درمیان نظر آتا ہے۔ ماؤڈ رائز پولینیا انٹارکٹیکا کے وِیڈل سی میں ماؤڈ رائز کے علاقے کے قریب بنتا ہے۔ یہ عام کھلے سمندر سے اس لیے مختلف ہے کہ اس کے گرد وسیع علاقے میں سمندری برف موجود ہوتی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق ایسے کھلے آبی حصے سمندر اور فضا کے درمیان حرارت اور نمی کے تبادلے کو بدل سکتے ہیں۔ کھلا پانی ہونے کی وجہ سے سمندر اپنی حرارت نسبتاً براہ راست سرد فضا میں خارج کرسکتا ہے۔ اس عمل کا اثر سمندر کے اندر پانی کی حرکت پر بھی پڑ سکتا ہے۔
250 سال میں 25 سال پولینیا کی سرگرمی
تحقیق میں ایسے 25 سال سامنے آئے جن میں ماؤڈ رائز پولینیا کی سرگرمی کے شواہد ملے۔ ان میں تین بڑے واقعات ایسے تھے جو 1974 سے 1976 کے دوران سامنے آنے والے بڑے پولینیا کے واقعے سے ملتے جلتے تھے۔
1974 سے 1976 کے دوران ماؤڈ رائز کے قریب کھلے پانی کا علاقہ اپنے عروج پر 3 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ ہوگیا تھا۔ اس کے کئی دہائیوں بعد 2016 اور 2017 میں بھی ایک بڑا پولینیا دیکھا گیا۔ تاہم اس کا رقبہ 1970 کی دہائی کے واقعے کے مقابلے میں کم تھا اور 40 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ رہا۔
پولینیا کیوں بنتا ہے؟
سائنس دانوں کے مطابق پولینیا بننے کے پیچھے ایک ہی وجہ نہیں ہوتی۔ سمندر اور فضا کے مخصوص حالات ایک ساتھ پیدا ہوں تو اس کے بننے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ تحقیق میں ماحول میں ہوا کے نظام اور سمندر کے اندر موجود حالات کے باہمی تعلق کی طرف بھی توجہ دی گئی ہے۔
ماضی کے بڑے واقعات کا جائزہ لینے سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ ماؤڈ رائز پولینیا کن حالات میں بنتا ہے۔ اس سے مستقبل میں ایسے واقعات کی نگرانی اور ان کے اثرات کو سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
عالمی سمندری نظام کیلئے کیوں اہم ہے؟
پولینیا صرف برف میں بننے والا ایک کھلا حصہ نہیں۔ اس کے نتیجے میں سمندر اور فضا کے درمیان حرارت کا تبادلہ تیز ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ سمندر کی گہرائی میں پانی کی حرکت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
محققین کے مطابق کھلے سمندر کے یہ علاقے گہرے سمندری پانی کی تشکیل اور جنوبی سمندر کی گردش سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے ماؤڈ رائز پولینیا کی سرگرمی کا اثر صرف انٹارکٹیکا تک محدود نہیں سمجھا جاتا۔ یہ سمندری گردش اور علاقائی آب و ہوا کے مطالعے کیلئے بھی اہم ہے۔
نئی تحقیق نے ماؤڈ رائز پولینیا کے بارے میں دستیاب تاریخی ریکارڈ کو کئی دہائیوں سے بڑھا کر تقریباً ڈھائی صدی تک پہنچا دیا ہے۔ اس طویل ریکارڈ سے پولینیا کے بننے کے حالات، سمندر اور فضا کے تعلق اور انٹارکٹیکا کے موسمی نظام پر اس کے ممکنہ اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔
Catch all the دلچسپ و عجیب News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










