بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی طبی جانچ اور علاج سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ عدالت نے بانی کو طبی معائنے اور علاج کے لیے دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا مکمل طبی معائنہ شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کیا جائے گا۔ عدالت نے ان کے علاج کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔ میڈیکل بورڈ بانی کی صحت کا تفصیلی جائزہ لے گا اور علاج کے حوالے سے اپنی رائے دے گا۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا مکمل طبی ریکارڈ اور تمام ٹیسٹ رپورٹس بھی طلب کرلی ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ گرفتاری کے بعد سے اب تک ہونے والے تمام طبی معائنے، ٹیسٹ اور علاج کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔
عدالت نے بانی کے علاج سے متعلق استعمال ہونے والے نسخے اور ڈاکٹرز کی آرا بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا مقصد بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق مکمل طبی ریکارڈ کا جائزہ لینا ہے تاکہ ان کے علاج کے لیے مناسب اقدامات کیے جاسکیں۔
تحریری حکم نامے میں گزشتہ تین ماہ کے دوران بانی پی ٹی آئی سے ان کے اہلخانہ اور وکلا کی ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ متعلقہ حکام کو ان ملاقاتوں کا ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی ہیں۔ عدالت نے زیر سماعت، زیر التوا اور ان مقدمات کی مکمل معلومات پیش کرنے کا حکم دیا ہے جن میں بانی کو سزا ہوچکی ہے۔
عدالت نے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں بانی کے علاج کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس بورڈ میں متعلقہ طبی ماہرین شامل ہوں گے جو بانی پی ٹی آئی کی صحت کا جائزہ لے کر علاج سے متعلق سفارشات دیں گے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق ڈاکٹر فیصل سلطان اور بانی کی بہن عظمیٰ خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کے عمل میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس طرح ان کی صحت کے جائزے اور علاج کے معاملے میں ان کی شرکت بھی ممکن ہوگی۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال میں عمران خان کے علاج اور قیام کے دوران فراہم کی جانے والی سہولتوں کے اخراجات بانی پی ٹی آئی یا ان کے اہلخانہ برداشت کریں گے۔ حکومت کو ان کے اسپتال میں قیام کے دوران سیکیورٹی کے مناسب انتظامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے بانی کے اہلخانہ کو ہفتے میں ایک بار ملاقات کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی کو اپنے بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
تحریری حکم نامے میں بانی کی صحت سے متعلق معلومات کے حوالے سے بھی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ عدالت نے ان کے اہلخانہ، سیاسی جماعت اور وکلا کو بانی پی ٹی آئی کی صحت کی صورتحال عوام کے ساتھ شیئر کرنے سے روک دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بانی کی صحت سے متعلق معلومات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ان کے قیام کے دوران کسی بھی عوامی اجتماع کی اجازت نہ دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں فراہم کی جانے والی سہولتیں فوری طور پر واپس لینے کی تنبیہ بھی کی ہے۔ تاہم حکومت یا متعلقہ افسران کو عدالتی حکم پر عملدرآمد کے دوران کسی شکایت یا مشکل کی صورت میں عدالت سے رجوع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں انسانی حقوق سے متعلق اہم نکتہ بھی واضح کیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی شخص کا قیدی ہونا اسے انسانی سلوک اور ضروری طبی سہولتوں کے حق سے محروم نہیں کرتا۔ عدالت کے مطابق قیدی کو بھی اس کی طبی ضرورت کے مطابق علاج اور ضروری سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ بظاہر ان کی صحت میں بگاڑ ظاہر کرتی ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے بانی کی درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ آئندہ سماعت تک مؤخر کردیا ہے۔ عدالت آئندہ سماعت پر درخواست کی قابل سماعت ہونے اور حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جائزہ لے گی۔
عدالت نے متعلقہ فریقین کو آئندہ سماعت سے قبل مختصر جوابات جمع کروانے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ یوں عمران خان کی طبی صورتحال کے ساتھ درخواست کے قانونی پہلو بھی اگلی سماعت میں زیر غور آئیں گے۔
اب متعلقہ حکام کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی، سیکیورٹی، طبی ریکارڈ اور میڈیکل بورڈ سے متعلق اقدامات کرنا ہوں گے۔ آئندہ سماعت میں عدالت کو ان احکامات پر عملدرآمد اور بانی کی طبی صورتحال سے متعلق مزید معلومات فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









