جمعرات، 20-اگست،2026
جمعرات 1448/03/07هـ (20-08-2026م)

چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات سے متعلق پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 قومی اسمبلی و سینیٹ سے منظور

20 اگست, 2026 17:56

چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات سے متعلق پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 قومی اسمبلی و سینیٹ نے منظور کرلیا ہے۔

نئے قانون کے تحت دفاعی افواج کے لیے ایک مشترکہ ہیڈکوارٹر قائم کیا جائے گا۔ یہ ہیڈکوارٹر مسلح افواج کا مرکزی ہیڈکوارٹر ہوگا اور اس کی ذمہ داریاں چیف آف ڈیفنس فورسز کی کمان اور اختیارات کے تحت انجام دی جائیں گی۔

منظور کیے گئے ایکٹ کے مطابق دفاعی افواج کا ہیڈکوارٹر قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج سے متعلق معاملات میں وزیراعظم کے اعلیٰ فوجی مشیر کے طور پر کام کرے گا۔ اس نئے انتظام کے تحت دفاعی معاملات میں رابطہ کاری اور مشترکہ امور کو ایک مرکزی نظام کے ذریعے آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔

قانون میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کے اختیارات بھی واضح کیے گئے ہیں۔ ایکٹ کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی عملی کمانڈ اور کنٹرول حاصل ہوگا۔ اس کمانڈ اور کنٹرول کے حوالے سے چیف آف ڈیفنس فورسز وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوں گے۔

ایکٹ کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کے مختلف شعبوں کے درمیان بہتر رابطہ، تعاون اور عملی ہم آہنگی قائم رکھنے کے لیے ضروری اختیارات حاصل ہوں گے۔ اس کا مقصد دفاعی معاملات میں مشترکہ نگرانی اور مربوط انداز میں کام کو یقینی بنانا ہے۔

نئے قانون میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے انتظامی اختیارات سے متعلق بھی تفصیلات شامل ہیں۔ ایکٹ کے مطابق وہ متعلقہ قوانین کے تحت بعض افراد کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ، سبکدوشی یا برطرفی سے متعلق فیصلے کرسکیں گے۔ تاہم آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت مقرر کیے گئے افراد اس اختیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔

قانون کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو استعفے سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ وہ متعلقہ قوانین کے تحت استعفیٰ منظور یا مسترد کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ بعض معاملات میں ملازمت جاری رکھنے یا ریٹائرمنٹ کی عمر اور ملازمت کی مدت میں کمی سے متعلق اختیارات بھی استعمال کیے جاسکیں گے۔

ایکٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز وفاقی حکومت کی جانب سے دیے گئے دیگر اختیارات اور ذمہ داریاں بھی انجام دے سکیں گے۔ حکومت قانون پر عملدرآمد کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری قواعد و ضوابط تیار کرے گی۔

قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ایکٹ کی شقوں اور حکومت کی جانب سے بنائے گئے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کے لیے احکامات اور ہدایات جاری کرسکیں گے۔ اس طرح دفاعی معاملات میں نئے انتظامی ڈھانچے کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

نئے قانون میں ایسی صورتحال کے لیے بھی طریقہ کار دیا گیا ہے جس میں ایکٹ پر عملدرآمد کے دوران مشکلات پیش آئیں یا کسی دوسرے نافذ العمل قانون سے عدم مطابقت پیدا ہو۔ ایسی صورت میں صدر مملکت کو مشکل دور کرنے اور قانون پر عملدرآمد میں پیدا ہونے والی رکاوٹ ختم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ اجلاس میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 کرنے کی تحریک پیش کی گئی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے تحاریک پیش کیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ڈیفنس فورسز آف پاکستان ترمیمی بل 2026 ایوان میں پیش کردیا جسے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 سینیٹ سے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا، جبکہ ڈیفنس فورسز آف پاکستان ترمیمی بل 2026 بھی سینیٹ سے منظور کرلیا گیا۔

سینیٹ اجلاس کل صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔